ملا عمر کی موت پر خاموشی

افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی موت کا اعلان ہوئے دس دن سے زیادہ ہوگئے ہیں لیکن تاحال جماعت الاحرار کے علاوہ القاعدہ سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کی طرف سے ان کی موت پر کوئی تعزیتی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جس سے بظاہر عسکری تنظیمیں کشمکش کا شکار نظر آتی ہیں۔

شاید یہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ دنیا بھر کے شدت پسندوں کےلیے ’ امیر المومنین اور ایک روحانی پیشوا‘ کا درجہ رکھنے والے ملا عمر کی موت کا اعلان ایسے ڈرامائی انداز میں ہوگا۔

یہ بھی کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ تقربباً دو دہائیوں تک ایک امیر کے تحت متحد رہنے والی تنظیم ملا عمر کی وفات کے ساتھ ایسے اختلافات کا شکار ہوجائے گی اور امارت کے معاملے پر حالات اتنے سنگین ہو جائیں گے کہ ایک دوسرے کو تسلیم تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

بلاشبہ ملا محمد عمر پاکستان سے لے کر افریقہ، الجزائر، عراق ، شام ،فلسطین، ازبکستان اور یمن تک شدت پسند تنظیموں کےلیے امیر کا درجہ رکھتے تھے اور یہ تمام تنظیمیں نہ صرف ان کی بیعت کرچکی تھیں بلکہ ان کے ایک اشارے پر مر مٹنے کےلیے بھی تیار تھیں۔

بیشتر ملکی اور غیر ملکی تنظیمیں ملا عمر سے ایک لگاؤ بھی رکھتی تھی جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ دس پندرہ برسوں کے دوران کبھی کسی تنظیم نے ’امیر المومنین‘ کی کبھی کوئی مخالفت کی اور نہ ان کے خلاف کوئی غلط زبان استعمال کی گئی۔

لیکن ان کی موت کے بعد جس طرح عسکری تنظیموں میں ایک انجان سے خاموشی چھائی ہوئی ہے اس سے ایک تذبذب کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔

ملا عمر کی موت کی تصدیق کو دو ہفتے پورے ہونے کو ہے لیکن جماعت الاحرار کے علاوہ ابھی تک کسی اور ملکی یا غیر ملکی تنظیم کی طرف ان کی موت پر کوئی تعزیتی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ نئے امیر ملا اختر منصور کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ طالبان امیر کے ایک اشارے پر مر مٹنے والی ان تنظیموں میں یہ خاموشی کیوں، کیا شدت پسند تنظمیں کسی اور طرف جانے کا ارادہ رکھتی ہے یا وہ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

عسکری تنظیموں پر نظر رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی عارف یوسفزئی کا کہنا ہے کہ حیران کن بات یہ ہے کہ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے دیگر موضوعات پر تو مسلسل میڈیا کو بیانات جاری کئے جارہے ہیں لیکن ملا عمر کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملا عمر کی موت کے ضمن میں مختلف بیانات سامنے آئے تھے جس میں کچھ ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ شاید انھیں زہر دے کر مارا گیا ہے حالانکہ افغان طالبان اس کی سختی سے تردید کرچکے ہیں لہذا یہ امکان بھی ہے کہ شدت پسند اپنے طور پر ان کی موت کی تحقیقات کررہے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے بعد ہی کوئی بیان جاری کریں گے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان میں اختلافات کا براہ راست فائدہ شدت پسند تنظیم داعش کو ملنے کا امکان ہے جو آج کل افغانستان زیادہ سرگرم نظر آتی ہے۔ افغانستان میں پہلے ہی طالبان تحریک سے کچھ کمانڈروں نے منحرف ہوکر دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں شدت پسند تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے سنئیر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جب تک افغان طالبان آپس کے اختلافات ختم نہیں کریں گے اس وقت صورتحال ایسی ہی کشمکش کا شکار رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی طالبان تنظیموں بالخصوص ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں رہے ہے اسی وجہ سے ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن مجھے تو سب سے زیادہ حیرانی عالمی عسکری تنظیم القاعدہ کی خاموشی پر ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کی خاطر تو ملاعمر نے اپنی حکومت تک قربان کی تھی اور اسامہ بن لادن کے معاملے پر پوری دنیا سے ٹکر لی لیکن اب عرب جنگجوؤں کی جانب سے ان کی موت پر خاموشی حیران کن ہے۔

سمیع یوسفزئی کے مطابق افغان طالبان میں اختلافات سے شدت پسند تنظیمیں بھی دو حصوں میں بٹ رہی ہے جس سے ہوسکتا ہے کہ ایک حصہ داعش سے الحاق کرلے جس سے آنے والے دنوں میں بالخصوص افغانستان میں تشدد کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں