’نوادرات برسوں سے پاکستان واپسی کے منتظر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’گذشتہ تین برسوں میں ساڑھے آٹھ ہزار قیمتی نوادرات سمگل کیے جا چکے ہیں‘

پاکستان سے جہاں بڑی تعداد میں نوادرات بیرون ملک سمگل کیے جانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں وہیں پاکستان کو لوٹائے جانے والے نوادارت برسوں سے وطن واپسی کے منتظر ہیں۔

حکومتِ پاکستان اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ملک سے بڑی تعداد میں نوادرات بیرون ملک سمگل کیے گئے ہیں۔

امریکہ، انگلینڈ، اٹلی اور فرانس ان ممالک میں سر فہرست ہیں جہاں یہ نوادرات لے جائے جا رہے ہیں۔

اطلاعات و نشریات اور قومی ثقافتی ورثے کے وفاقی وزیر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ان نوادرات کی واپسی کا معاملہ امریکہ، انگلینڈ اور اٹلی کے ساتھ کامیابی کے ساتھ سرکاری سطح پر اٹھایا گیا ہے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ سال 2007 میں برطانیہ کی جانب سے لوٹائے گئے تقریباً دو سو نوادرات آج بھی وہیں پڑے ہوئے ہیں۔

برطانیہ کے کسٹم حکام نے پاکستان سے سمگل شدہ تقریباً دو سو نوادرات قبضے میں لیے تھے جنھیں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کر دیا گیا تھا تاہم آٹھ برس گزر جانے کے باوجود ان کی واپسی کے لیے اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان نوادرات کی واپسی کے لیے شاید فنڈز کا بندوبست نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے یہ لندن میں ہی پڑے ہیں۔

اسی طرح تقریباً سو پاکستانی نوادرات جو اٹلی سمگل کیے گئے، انھیں اٹلی کی پولیس نے قبضے میں لے کر 2007 میں روم میں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کر دیا تھا۔ اس میں اٹلی کی حکومت کی کوششیں قابل ذکر ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ نوادرات بھی وطن واپس لائے جا سکے ہیں یا نہیں۔

پیرس میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک مقامی عدالت میں یونیسکو کے قانون کے تحت 45 نوادرات کی واپسی کا کیس دائر کر رکھا ہے۔

وفاقی وزیر پرویز رشید نے گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ سال 2007 میں امریکہ سے 39 نوادرات واپس ملک لائے گئے ہیں جبکہ دو کیس ثقافتی ورثے کے نوادرات کی واپسی سے متعلق دوطرفہ معاہدے کے منتظر ہیں۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی تھی لیکن یونیسکو میں پاکستان کے مستقل مندوب کی جانب سے چند مجوزہ ترامیم کے لیے دوبارہ وزارت قانون، انصاف اور حقوق انسانی کو بھیجی گئی ہے۔

حکومت کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں ساڑھے آٹھ ہزار قیمتی نوادرات برآمد کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی حکومت کا اب کہنا ہے کہ 1975 کے اینٹیکیوٹیز ایکٹ کے تحت قوانین میں اب مزید سختی کی گئی ہے تاکہ نوادرات کی سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس سلسلے میں تقریباً چار سو مقامات کو آثار قدیمہ کا درجہ دیا گیا ہے۔

آثار قدیمہ کی تجارت کی نگرانی کے لیے کراچی، کوئٹہ، گلگت، پشاور اور ٹیکسلا میں دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں 13 عجائب گھر قائم ہیں جن میں 50 سے زائد بین الاقوامی نمائشیں بھی کرائی گئی ہیں۔

پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت آثار قدیمہ کی مقامات کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کو اب شکایت ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

حکومت کا موقف ہے کہ آثار قدیمہ کے تمام دفاتر کو بمع عملہ متعلقہ صوبوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا اپریل2011 میں وفاق کے زیر انتظام کوئی بھی آثار قدیمہ کا مقام یا عجائب گھر نہیں رہا۔ تاہم ان کے تحفظ، فروغ اور سمگلنگ کی روک تھام کی ذمہ داری اب بھی اسی کی ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے میں ’غلطی سے‘ صوبوں کے حوالے کیے گئے آثار قدیمہ کی وفاق کو واپسی تک وہ اپنا آئینی کردار ادا نہیں کر سکتی۔

اسی بارے میں