اعلیٰ سطح کا افغان وفد اسلام آباد میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں آج ایک اعلیٰ سطح کا افغان وفد پاکستان پہنچا ہے جہاں پہلے روز ان کی پاکستانی وزیراعظم کے خارجہ پالیسی کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات ہوئی۔

اس دورے کا مقصد پاکستان میں افغان مخالف انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا جائزہ لینا ہے۔

ملاقات میں دونوں جانب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو جاری رکھنے کی امید ظاہر کی گئی۔

سرتاج عزیز نے ملاقات میں افغان وفد کے اراکین سے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر اعتماد کر کے ان عناصر کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا جو کہ ایک عرصے دونوں برادر ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’پاکستان میں کرائے کے قاتل ہمیں جنگ کا پیغام دیتے ہیں‘

ایک روزہ دورے پر آنے والے افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کی سربراہی میں افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل، نیشنل سکیورٹی کے مشیر حنیف اتمر اور نگراں وزیر دفاع معصوم ستنکزئی پر مشتمل افغان وفد پاکستان کے اعلیٰ حکام سے مزید ملاقاتیں بھی کرے گا۔

کابل میں افغان صدارتی ترجمان سید ظفر ہاشمی نے دورے سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ افغان وفد پاکستان میں موجود کابل میں حالیہ انتہا پسند حملوں سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔

اس سلسلے میں انھوں نے کہا: ’ہم پاکستان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے اندر موجود ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے افغان عوام کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر سخت تنقید کی تھی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اعلیٰ سطح کے وفود کی ملاقات کا فیصلہ افغان صدر، پاکستانی وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا۔

افغان صدر نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں ہوئے کہا تھا: ’ماضی کی طرح اب بھی پاکستان میں خودکش بمبار اور دھماکہ خیر مواد تیار کیے جا رہے ہیں۔ ہم پاکستان سے ان گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کریں گے جو افغان سرزمین پر حملے کر رہے ہیں۔‘

اقتدار میں آنے کے بعد افغان صدر اشرف غنی کو پاکستان کی جانب نرم رویہ اختیار کرنے پر نہ صرف افغان پارلیمنٹ بلکہ افغان عوام کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہا تھا۔

افغان شہریوں پر حملوں میں اضافے کے بعد صدر اشرف غنی نے کہا کہ ’اگلے چند ہفتوں میں پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے آنے والی کئی دہائیوں تک دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔‘

تاہم دونوں ملکوں کی جانب سے الزام تراشی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے سرکاری وفد کی ملاقاتیں خوش آئند پیش رفت ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا: ’دونوں ملکوں میں اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے فیصلہ کیا گیا تھا کہ میڈیا کے ذریعے سفارت کاری نہیں کی جائے گی، مگر کابل میں پے در پے حملوں نے افغان صدر کو پریشان کر رکھا ہے جس کے نتجے میں انھوں نے سخت زبان استعمال کی، اور پھر پاکستان نے اس کا جواب دیا۔ مگر آج کی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘

اعلیٰ سطح کے افغان وفد کی اہمیت سے متعلق رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا: ’افغان وفد میں وزرا کے علاوہ سکیورٹی کے اہم سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ یہ بات پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق افغان حکام حالیہ حملوں میں پاکستان میں موجود افغان مخالف عناصر کی شمولیت کے شواہد پاکستان کو پیش کریں گے اور پاکستان سے مطالبہ کیا جا ئے گا کہ وہ ان کے گرد گھیرا سخت کرے۔

یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے وہ پاکستان کی مدد نہیں چاہتے، تو کیا سرکاری ملاقاتوں میں طالبان کے سربراہ ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد تعطل کا شکار ہونے والے طالبان سے امن مذاکرات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا؟

اس سوال پر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا: ’کابل میں حملوں میں اضافے کی وجہ طالبان کی جانب سے یہ باور کرانا ہے کہ وہ ملا عمر کے بعد تنظیم میں پڑنے والی پھوٹ کے باوجود بھی مضبوط ہیں۔ افغان صدر کے غصے کی وجہ حملوں میں اصافے کے علاوہ بظاہر پاکستان پر یہ دباؤ ڈالنا بھی ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں اپنے لائحہ عمل سے آگاہ کرے۔‘

افغان وفد کے دورۂ پاکستان سے متعلق پاکستانی حکومت کی جانب سے اب تک سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں