’آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن اور قریبی ساتھی مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ پچھلے سال اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔

مشاہد اللہ خان کے بقول اس سازش کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان کے سویلین انٹیلی جنس ادارے انٹیلی جنس بیورو نے لیفٹینٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی ٹیلی فونک گفتگو ٹیپ کی جس میں وہ مختلف لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ دھرنے کے دوران کس طرح افراتفری پھیلانی ہے اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنا ہے۔

تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں زیرِ بحث آڈیو ریکارڈنگ سے متعلق خبریں بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہیں۔

ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے ملک کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید بھی سینیٹر مشاہد اللہ کے اس بیان کی تردید کی اور ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کو اس بات کو اچھالنا نہیں چاہیے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس نے بھی سینیٹر مشاہد اللہ کے بیان کو نوٹس لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ مشاہد اللہ خان نے اس دھرنے کے ایک سال مکمل ہونے پر بی بی سی کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کہا کہ 28 اگست کی شام وزیر اعظم نواز شریف نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران یہ آڈیو ٹیپ انھیں سنائی۔

وفاقی وزیر نے کہا: ’جنرل راحیل شریف یہ ٹیپ سن کر حیران رہ گئے۔ انھوں نے اسی وقت جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو اسی میٹنگ میں وزیر اعظم کے سامنے طلب کر کے وہی ٹیپ دوبارہ چلوائی اور ان سے پوچھا کہ کیا یہ آواز آپ ہی کی ہے اور جنرل عباسی کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ یہ آواز انہی کی ہے، جنرل راحیل نے جنرل عباسی کو میٹنگ سے چلے جانے کو کہا۔‘

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ ٹیپ اور اس کے علاوہ بھی اس وقت حکومت کو مختلف ذرائع سے جو اطلاعات مل رہی تھیں وہ بہت خوفناک تھیں اور اس وقت تیار ہونے والی سازش کے نتیجے میں بہت تباہی ہونی تھی۔

’اس ٹیپ میں کھلی سازش تیار کی جا رہی تھی کہ کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، وزیراعظم ہاؤس پر قبضے کی بھی بات کی گئی تھی، یعنی اس سب کے نتیجے میں بہت ہی زیادہ بگاڑ تھا۔ اس وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا۔‘

مشاہد اللہ کے بقول اس وقت جو سازش تیار کی جا رہی تھی اس کا نشانہ صرف سول حکومت یا وزیراعظم نواز شریف نہیں تھے بلکہ یہ سازش بری فوج کے سربراہ کے خلاف بھی تھی۔

’اس سازش کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان اتنی خلیج اور اختلافات پیدا کر دیے جائیں کہ نواز شریف کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ جنرل راحیل کے خلاف کوئی ایکشن لیں اور جب وہ ایکشن لیں تو اس وقت کچھ لوگ اس وقت حرکت میں آئیں اور اقتدار پر قابض ہو جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہمیں پتہ تھا کہ لندن میں طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آئی ایس آئی کے کچھ لوگ بھی موجود تھے: وفاقی وزیر

اس سوال پر کہ جب اسلام آباد میں اتنی سنگین سازش تیار ہو رہی تھی اور اس پر عمل کرنے کی کوشش ہو رہی تھی عین اس وقت وزیراعظم نواز شریف اچانک وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر اپنے اہل خانہ سمیت لاہور کیوں چلے گئے؟

مشاہد اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کو ایوان وزیراعظم سے باہر نکالنے کا فیصلہ بھی ایک سازش سے بچنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس کی تفصیل بتاتےہوئے مشاہد اللہ نے کہا کہ 31 اگست کے روز انٹیلی جنس بیورو اور بعض دیگر ذرائع سے حکومت کو خبر ملی کہ اسلحے سے بھری دو گاڑیاں وزیراعظم ہاؤس کی طرف آ رہی ہیں۔ اس وقت تک پی ٹی وی پر قبضہ ہو چکا تھا اور لوگ سیکریٹریٹ اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھ رہے تھے۔

’ایسے میں حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ وزیراعظم کو وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ فوج ہی کے ایک افسر نے دو گاڑیوں کو پکڑا جو وزیراعظم ہاؤس جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان گاڑیوں میں پچیس پچیس کلاشنکوف تھیں۔‘

اس سوال پر کہ یہ بندوقیں کس نے اور کہاں استعمال کرنی تھیں، مشاہد اللہ خان نے کہا: ’جب میں نے اس بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ ان کے کچھ لوگ وہاں (وزیراعظم ہاؤس) پہلے ہی پہنچ چکے تھے جنہوں نے ان کلاشنکوفوں کو استعمال کرنا تھا۔ بس یہ اسلحہ اندر لانے کی دیر تھی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک طرف آپ بعض فوجی جرنیلوں پر حکومت کے خلاف سازش کا الزام لگا رہے ہیں اور دوسری طرف وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اہم عمارات کی حفاظت کی ذمہ داری بھی فوج ہی کو دے دی گئی، مشاہد اللہ نے کہا کہ فوج بطور ادارہ حکومت کے خلاف اس سازش میں شامل نہیں تھی۔

’بعض بہت موثر اور سینیئر جرنیل اس سازش میں ملوث تھے، جن میں لیفٹینٹ جنرل ظہیرالاسلام بھی شامل ہیں لیکن جنرل راحیل اور پاکستانی فوج ایک ادارے کے طور پر اس سازش میں شامل نہیں تھی۔‘

مشاہد اللہ نے کہا کہ اگر جنرل راحیل حکومت ختم کرنے کی خواہش رکھتے تو پھر دھرنوں وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں پیش آنی تھی۔

اس سوال پر کہ حکومت کو اس دھرنے کی آڑ میں ہونے والی اس مبینہ سازش کا علم کب ہوا، تو مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت کو پہلے دن سے اس سازش کا علم تھا۔

’ہمیں پتہ تھا کہ لندن میں طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آئی ایس آئی کے کچھ لوگ بھی موجود تھے۔ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ اس ملاقات میں کیا کچھ طے ہوا کہ کس نے لاہور سے کب چلنا ہے، کہاں پہنچنا ہے، کیا کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے دن ہی سے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ کسی بھی قیمت پر ان لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرنی کیونکہ بعض طاقتیں یہی چاہتی تھیں کہ حکومت طاقت استعمال کرے اور ان کی سازش پر عمل کا راستہ ہموار ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس مبینہ سازش میں ملوث ہونے پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ ظہیر اسلام عباسی کے خلاف کارروائی کے امکانات کے بارے میں ایک سوال پر مشاہد اللہ نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت ابھی اتنی طاقتور نہیں کہ اس طرح کی کارروائی کر سکے۔

’گو کہ ہماری حکومت نے جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ تو درج کیا لیکن ہم ان کے خلاف بھی اس طرح کی کارروائی نہیں کر سکے جیسا کہ کی جانی چاہیے تھی۔ وزیراعظم کی ساری توجہ ملکی استحکام اور اسے آگے لے جانے پر مرکوز ہے۔ ایسے موقع پر وہ اس قسم کی انکوائری یا کارروائی کا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔‘

اسی بارے میں