آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے بارے میں ’غیرذمہ دارانہ‘ بیان پر وفاقی وزیر برطرف

Image caption وزیر اطلاعات پرویز رشید نے مشاہد اللہ خان سے استعفیٰ لینے کی تصدیق کر دی ہے۔

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان کو سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ظہیر السلام کے بارے میں بیان دینے پر ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے مشاہد اللہ خان سے استعفیٰ لینے کی تصدیق کر دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان علی سے بات کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ ’مشاہد اللہ کو بتایا گیا ہے کہ جو انٹرویو انھوں نے دیا ہے وہ غیر ذمہ درانہ اور حقائق کے بالکل برعکس ہے۔‘

’آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے‘

’دھرنوں میں پی ٹی آئی سے کئی غلطیاں ہوئیں‘

وفاقی وزیر پرویز رشید نے کہا کہ ’سینیٹر مشاہد اللہ اس وقت مالدیپ کے دورے پر ہیں جہاں ان کو انٹرویو کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کے تاثرات پہنچائےگئے اور انھیں کہاگیا کہ وہ پاکستان تشریف لے آئیں۔ انھوں نے پاکستان واپس آنے اور استعفیٰ دینے کا فیصلہ قبول کیا۔‘

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم کی موجودگی میں کبھی کوئی ایسا واقع پیش نہیں آیا ہے۔ نہ کبھی کوئی ٹیپ سنی گئی اور نہ ہی سنائی گئی۔‘

خیال رہے کہ جمعے کو وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن اور قریبی ساتھی مشاہداللہ خان نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ گذشتہ سال اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔

مشاہد اللہ خان کے بقول اس سازش کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان کے سویلین انٹیلی جنس ادارے انٹیلی جنس بیورو نے لیفٹینٹ جنرل ظہیر الاسلام کی ٹیلی فونک گفتگو ٹیپ کی جس میں وہ مختلف لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ دھرنے کے دوران کس طرح افراتفری پھیلانی ہے اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنا ہے۔

تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ میڈیا میں زیرِ بحث آڈیو ریکارڈنگ سے متعلق خبریں بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہیں۔

یاد رہے کہ مشاہد اللہ خان نے اس دھرنے کے ایک سال مکمل ہونے پر بی بی سی کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کہا کہ 28 اگست کی شام وزیر اعظم نواز شریف نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران یہ آڈیو ٹیپ انھیں سنائی۔

مشاہد اللہ کے بقول اس وقت جو سازش تیار کی جا رہی تھی اس کا نشانہ صرف سول حکومت یا وزیراعظم نواز شریف نہیں تھے بلکہ یہ سازش بری فوج کے سربراہ کے خلاف بھی تھی۔

’اس سازش کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان اتنی خلیج اور اختلافات پیدا کر دیے جائیں کہ نواز شریف کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ جنرل راحیل کے خلاف کوئی ایکشن لیں اور جب وہ ایکشن لیں تو اس وقت کچھ لوگ اس وقت حرکت میں آئیں اور اقتدار پر قابض ہو جائیں۔‘

اسی بارے میں