لائن آف کنٹرول پر پھر فائرنگ، سرحد کے دونوں جانب ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائرنگ کے یہ تازہ واقعات بھارت کے 68ویں یومِ آزادی کے موقع پر پیش آئے ہیں

پاکستانی فوج اور بھارتی حکام نے ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول کے علاقے میں ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سینیچر کی صبح ہونے والی اس فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جن میں سے ایک کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور چار کا بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایل و سی پر نکیال سیکٹر میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک شہری ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع کوٹلی کے گاؤں میں کنٹھی گالا اس بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنا اور اس کا رہائشی محمد شفیع گولی لگنے سے ہلاک اور عمران، شاہ پال اور مستری رشید نامی افراد زخمی ہوگئے۔

پاکستانی فوج کے مطابق بھارتی فائرنگ کا موثر جواب دیا گیا ہے۔

ادھر سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں سنیچر کی صبح پاکستانی فوجیوں کی فائرنگ سے کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے پار سے کی گئی فائرنگ میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جموں کے ڈويژنل کمشنر ڈاکٹر پون كوٹوال نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا، ’ہم احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔ ابھی تک 4 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں طیارے سے اس علاقے سے منتقل کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کا کہنا ہے کہ صرف ڈیڑھ ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی 60 سے زیادہ مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے

خیال رہے کہ فائرنگ کے یہ تازہ واقعات بھارت کے 69ویں یومِ آزادی کے موقع پر پیش آئے ہیں جبکہ گذشتہ روز پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کی جانب سے بھی بھارت پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ صرف ڈیڑھ ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی 60 سے زیادہ مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج نے جولائی کے مہینے میں 37 اور اگست میں اب تک 26 مرتبہ یہ خلاف ورزیاں کی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں تشویش ناک ہیں اور ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کے سنہ 2003 کے سمجھوتے پر عمل کیا جائے۔

خیال رہے کہ ایک ماہ کے دوران ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے اب تک سات پاکستانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

سیز فائر کی خلاف ورزی کے یہ واقعات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر 23 اگست کو نئی دہلی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

بھارت میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے اور حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روس میں ایک دوسرے سے ملاقات کی اور بات چیت دوبارہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں