پشاورحملہ ایک پولیس اہلکار ہلاک، سات زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور جشن آزادی کے جلوس میں موجود تھے تاہم بعد میں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی طرف سے دو الگ الگ مقامات پر پولیس پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کے یہ واقعات جمعے کی رات پشاور کے رہائشی علاقے حیات آ باد میں پیش آئے۔

حیات آباد پولیس سٹیشن کے انسپکٹر عالم زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ رنگ روڈ پر رات کے وقت جشن آزادی کے جلوس اور ریلیاں گزر رہی تھیں کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے خیبر روڈ کے قریب ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ ان حملہ آواروں نے بعد میں باغ ناران کے سامنے سڑک پر موجود پولیس اہلکاروں پر بھی فائرنگ کی جس سے دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔

پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور جشن آزادی کے جلوس میں موجود تھے تاہم بعد میں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد حیات آباد میں پولیس کی نفری بڑھادی گئی ہے اور اردگرد کے علاقوں میں تلاشی کا عمل بھی تیز کردیا گیا ہے۔

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر کوہاٹ میں سکیورٹی فورسز اور پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران 21 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کوہاٹ کے علاقے جنگل خیل میں مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران 21 مشتنہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے

کوہاٹ پولیس کے ترجمان کے مطابق سنیچر کی صبح سکیورٹی فورسز اور پولیس نے شہر کے علاقے جنگل خیل میں مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران 21 مشتنہ شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا۔

تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ گرفتار ہونے والے افراد کون ہے اور انھیں کس جرم کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

کوہاٹ میں چند ماہ کے دوران سرچ اینڈ سٹرائیک کاروائیوں کے دوران سینکڑوں عسکریت پسندوں اور غیر قانونی طورپر مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار ہونے والے درجنوں افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال میں کافی حدتک بہتری دیکھی جارہی ہے تاہم پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پولیس کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوجانے کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ مرنے والے بیشتر اہلکاروں کی عمریں 30 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں