چاغی میں شدت پسندوں کا حملہ، تین ایف سی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور نہ ہی کسی تنظیم یا گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں کے حملے میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی میں سنیچر کو پیش آیا۔

اہلکار کے مطابق چاغی کے صدر مقام دالبندین سے شمال مغرب کی جانب افغان سرحد کے قریب فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ اس حملے کا نشانہ بنی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرحد کی جانب سے آنے والے نامعلوم مسلح افراد نے اس چوکی پر موجود اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایف سی کے اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ایف سی کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آوروں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اس حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور نہ ہی کسی تنظیم یا گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔

ضلع چاغی کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جس کی سرحدیں شمال میں افغانستان اور مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔

خیال رہے کہ چاغی ہی وہ ضلع ہے جہاں رواں ماہ کے آغاز میں حکام نے افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں کارروائی کے دوران شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ایک کمانڈر عمر لطیف عرف لقمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس کمانڈر کی کمین گاہ کا پتہ لگایا تھا۔

اس ہلاکت کے بعد بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے بعد القاعدہ نے اپنے نیٹ ورکس کو بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں