’شجاع خانزادہ سیدھی بات کرنے کے عادی تھے‘

Image caption شجاع خانزادہ نے سنہ 2014 میں پنجاب کی وزارتِ داخلہ کا قلم دان سنبھالا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت فعال کردار ادا کیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ 16 اگست کو خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے۔

وہ 28 اگست 1943 کو صوبہ پنجاب کے شہر اٹک کے گاؤں شادی خان میں پیدا ہوئے تھے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم ضلع اٹک سے حاصل کی اور پھر سنہ 1966 میں اسلامیہ کالج پشاور سےگریجویشن کیا۔

سنہ 1967 میں اُنھوں نے پاکستان فوج میں کمیشن حاصل کیا اور سنہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا۔

شجاع خانزادہ نے سنہ 1974 سے 1978 تک ملٹری انسٹرکٹر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے۔

شجاع جانزادہ اُن چند افراد میں سے ایک تھے جو سب سے پہلے سنہ 1983 کو دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچن گلیشیئر پر پہنچے تھے۔

اُنھوں نے سنہ 1992 سے 1994 تک امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں بطور فوجی اتاشی کے بھی فرائض سر انجام دیے۔

کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ نے ملٹری انٹیلی جنس میں بھی خدمات انجام دیں اور اُن کو سنہ 1988 میں تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔

کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کا تعلق ضلع اٹک کے ایک بااثر خاندان سے تھا اُن کے دادا کیپٹن عجب خان انڈین قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے جبکہ اُن کے انکل کیپٹن تاج محمد خانزادہ بھی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے۔

شجاع خانزادہ تین مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے وہ سنہ 2002 میں مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیرِ اعلیٰ کے معاون خصوصی رہے۔

سنہ 2008 کے عام اِنتخابات میں اُنھوں نے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی جبکہ سنہ 2013 کے عام اِنتخابات میں وہ مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔

شجاع خانزادہ روایتی سیاستدانوں کی طرح گول مول جواب دینے کی بجائے سیدھی بات کرنے کے عادی تھے شاید اِس کی ایک وجہ اُن کا فوجی پس منظر بھی تھا وہ میڈیا کے نمائندوں کے تلخ اور ٹیڑھےسوالات کو غور سے سنتے اور تحمل سے جواب دیتے۔

سنہ 2014 میں انھوں نے پنجاب کی وزارتِ داخلہ کا قلم دان سنبھالا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت فعال کردار ادا کیا۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پنجاب بھر میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظییوں کے خلاف ایکشن میں بھر پور کردار ادا کیا۔

کچھ عرصہ قبل کالعدم تنظیموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ ایک وقت تو یہ آ گیا تھا کہ لوگ اِن کا نام لینے سے بھی ڈرتے تھے اور اُلٹا ہمیں اُنھیں ’سر، سر ‘ کہہ کر بلانا پڑتا تھا لیکن اب خوف و ہراس پھیلانے اور مذہب کے نام پر قتل کرنے والے ہر فرد کے خلاف کاروائی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خودکش دھماکے میں شجاع خانزادہ کے ڈیرے کی چھت ہی نیچے آ گری

رواں برس زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران شجاع خانزادہ نے سکیورٹی کو اِنتظامات کو فول پروف بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہ خود حفاظتی اِنتظامات کی نگرانی کرتے رہے۔

بعض مواقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ نے خود کو دہشت گردوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا بھی ذکر کیا تھا لیکن اُن کا یہی کہنا تھا کہ وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

شجاع خانزادہ اس موقف پر یقین رکھتے تھے کہ جب تک معاشرے سے نفرت کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک امن و امان پر قابو پانا مشکل ہے۔

ایک ملاقات میں اپنے علاقے کے ایک ایسے امام مسجد کا واقعہ سنایا جو چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے کبھی چندہ جمع کرنے اور کبھی نفرت انگیز تقریر کرنے کے لیے لاؤڈ سپیکر کا اِستعمال کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہ کر بھی اُس کو روک نہیں سکتے تھے کیونکہ یہ ایک ’نو گو ایریا‘ تھا اور کیا پتہ کون آپ کو کافر قرار دے دے کیونکہ یہاں پر بہت جلد کسی کو بھی کافر قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد جب بھرپور کارروائی کا آغاز ہوا تو لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر دیگر افراد کے ساتھ ساتھ اُن کے علاقے کے اس امام مسجد کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی گی اور وہ 14 دن تک قید رہے۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ’گرفتار رہنے کے بعد ایک دن میری امام مسجد سے ملاقات ہوئی اور میں نے اُن سے کہا کہ اب آپ لاؤڈ سپیکر کا استعمال نہیں کرتے تو امام مسجد بولے بہت مشکل سے چودہ دن جیل میں گزارے ہیں اور اب میری توبہ کہ میں اِس پر اشتعال انگیز تقاریر کروں۔‘

اسی بارے میں