جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جسٹس جواد ایس خواجہ پاکستان کے 23 ویں چیف جسٹس ہیں

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب پیر کی صبح اسلام آباد میں ہوئی جہاں صدرِ مملکت ممنون حسین نے اردو زبان میں ان سے حلف لیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ پاکستان کے 23 ویں چیف جسٹس بن گئے ہیں۔

ایوان صدر میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم محمد نواز شریف سمیت وفاقی وزرا اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

چیف جسٹس ناصر الملک 16 اگست 2015 کو 65 سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

صدر مملکت نے رواں ماہ کے آغاز میں وزیراعظم کے مشورے پر جسٹس جواد ایس خواجہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدالت عظمیٰ کے نئے سربراہ کے طور پر مقرر کرنے کی سمری کی منظوری دی تھی.

خیال رہے کہ یہ سمری وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت کو بھجوائی تھی۔

پنجاب کے شہر وزیرآباد سے تعلق رکھنے والے جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی وکالت کا آغاز سنہ 1975 میں کیا تھا اور وہ 21 اپریل 1999 کو لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعینات کیے گئے تھے، تاہم مارچ سنہ 2007 کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے خلاف وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے تھے۔

اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مارچ 2009 میں اپنے عہدے پر بحال ہونے کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ کو پانچ جون 2009 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج تعینات کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption چیف جسٹس ناصر الملک 16 اگست 2015 کو 65 سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد ریٹائر ہو گئے

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے اختیارات بڑھانے کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس فیصلے پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ ملکی آئین سب سے مقدم ہے، پارلیمنٹ مقدم نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ عوام کا منتخب کردہ نمائندہ فورم ہے لیکن اس کا وجود بھی آئین ہی کے مرہون منت ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو کسی طور پر یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جس طرح چاہیں آئین میں ترمیم کریں جن میں ایسی ترامیم بھی شامل ہو سکتی ہیں جو ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہوں۔

جسٹس خواجہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ آئین تمام ریاستی اداروں پر فوقیت رکھتا ہے اور آئین کی تخلیق کردہ پارلیمنٹ آئین سے بالاتر نہیں ہے اور اس کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ اس بینچ کے بھی رکن تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر 2007 کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں