این اے 122 میں انتخابی عذرداری پر فیصلہ محفوظ

ایاز صادق
Image caption این اے 122 میں ایاز صادق نے عمران خان کو ہرایا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم الیکشن ٹربیونل نے این اے 122 میں مبینہ دھاندلی کے بارے میں دائر کی جانے والی انتخابی عذردای پر کارروائی مکمل کر لی ہے۔

پیر کے روز الیکشن ٹربیونل نے انتخابی عذرداری پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو اب 22 اگست کو سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے خلاف اِنتخابی عذراری دائر کر رکھی ہے۔

عذردای میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں دھاندلی ہوئی ہے لہذا سردار ایاز صادق کو نا اہل قرار دیا جائے۔

اِس حلقے سےسنہ 2013 کے عام اِنتخابات میں سردار ایاز صادق نے عمران خان کو ہرایا تھا۔

الیکشن ٹربیونل کی جانب سے انتخابی عذردای پر سماعت دو سال سے جاری ہے۔

کب کیا ہوا

نومبر 2014 کوعمران خان نے الیکشن ٹریبونل کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور کہا دھاندلی کے تمام ثبوت ووٹوں والے بیگوں میں موجود ہیں اُن کو کھولا جائے تو سب سامنے آ جائےگا کہ حلقہ میں کس حد تک دھاندلی ہوئی۔

الیکشن ٹربیونل نے دسمبر 2014 کو ووٹوں کے تھیلے کھولنے اور اُن کی جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔

رواں برس جنوری میں مبینہ دھاندلی کیس میں ووٹوں کی جانچ پڑتال کرنے والے لوکل کمیشن کے جج غلام حسین اعوان نے کہا کہ کوئی جعلی ووٹ نہیں نکلا البتہ اِنتخابی بےضابطگیاں پائی گئیں ہیں۔

لوکل کمیشن نے یہ بات الیکشن ٹربیونل کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی تھی۔

مارچ 2015 میں ٹربیونل نے حلقہ میں ڈالے گے تمام ووٹوں کی تصدیق نادرا سے کروانے کا حکم دیا۔

مئی 2015 میں نادرا نے ووٹوں پر انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے حوالے سے تقریباً 800 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ الیکشن ٹربیونل کے دفتر میں جمع کروائی تھی۔

ٹربیونل نے فریقین کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ 22 اگست کے لیے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

اسی بارے میں