’الیکشن کمیشن تاریخ لینے کی بجائے حکم جاری کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’موجودہ حکومتوں کو قائم ہوئے بھی دو سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ان صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ممکن نہیں بنایا جاسکا‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے مجوزہ شیڈول کو ری شیڈول کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کو نمٹا دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو صوبوں سے تاریخ یا مدد لینے کی بجائے اُنھیں احکامات جاری کرنے چاہیے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں میں تین مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا مجوزہ شیڈول سپریم کورٹ میں جمع کروا رکھا ہے جس کے مطابق ان دونوں صوبوں میں 19 نومبر اور 29 نومبر کو مرحلہ وار انتخابات کروائے جانے ہیں۔

چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن نے ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان دونوں صوبوں میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے مقامی انتظامیہ امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب کی وجہ سے بہت سے لوگ نقل مکانی کرنے کے ساتھ ساتھ امدادی کیمپوں میں بھی قیام پذیر ہیں جس کی وجہ سے حلقہ بندیوں اور ووٹرز کے اندراج میں مشکلات کا سامنا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ ایسے حالات میں الیکشن کا شیڈول آگے کرنے کی اجازت دی جائے۔

ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائض عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ایک آئینی ادارہ (الیکشن کمیشن) دوسرے آئینی ادارے (سپریم کورٹ) سے درخواست کررہا ہے کہ اُسے غیر آئینی کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں اُنھی جماعتوں کی حکومت ہے جو سنہ 2008 کے انتخابات میں جیت کر اقتدار میں آئیں تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومتوں کو قائم ہوئے بھی دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ان صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ممکن نہیں بنایا جاسکا۔

بینچ میں موجود جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیے کہ آئین کے مطابق بلدیاتی ادارے اپنی مدت ختم کرنے کے 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کروانا آئینی ذمہ داری ہے لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرنا چارہا۔

دونوں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کراونے کو تیار ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کا کام صوبائی حکومتوں کی طرف سے انتخابات کے انعقاد کے لیے درخواست کرنا نہیں بلکہ اُنھیں احکامات جاری کرنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتحابات جماعتی بنیادوں پر ہونے ہیں اس لیے الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرے۔

اسی بارے میں