رشید گوڈیل حملہ: ’استعمال ہونے والی نائن ایم ایم کا ریکارڈ موجود نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رشید گوڈیل کے دل کی دھڑکن نارمل ہے لیکن آئندہ 24 گھنٹے بہت اہم ہیں: ہسپتال

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے میں استعمال کیے جانا والا اسحلہ پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔

ایس پی گلشن اقبال عابد قائم خانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے جو خول ملے تھے جن کا فارینسک تجزیہ کرایا گیا جس میں یہ تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ہتھیار پہلی بار استعمال ہوا ہے۔

ایم کیو ایم رہنما رشید گوڈیل قاتلانہ حملے میں شدید زخمی

رشید گوڈیل بہادر آْباد میں گذشتہ روز موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ میں شدید زخمی ہوگئے تھے جو اس وقت لیاقت نیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت تشویشناک ہے۔

ایس پی گلشن اقبال عابد قائمخانی کے مطابق انھوں نے بتایا ملزمان نے بھی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور جو ہتھیار استعمال ہوچکے ہیں اور ریکارڈ پر آگئے ہیں اب وہ اسلحہ استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موبائل فون کالز کی جیو فینسنگ بھی کرائی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعے کے وقت کم سے کم مدت کی کتنی اور کہاں کہاں کال کی گئی ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ ماضی میں واقعے سے پہلے یا بعد میں ملزم مختصر بات چیت کرتے ہیں۔

رشید گوڈیل پر حملے اور ڈرائیور کی ہلاکت کا مقدمہ 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود متعلقہ نیو ٹاؤن پولیس تھانے پر درج نہیں ہوسکا ہے۔

ایس پی گلشن اقبال عابد قائم خانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے فیملی سے رابطہ کیا تھا لیکن وہ مصروف تھے آج امکان ہے کہ مقدمہ درج کرایا جائے گا۔

ایس پی عابد قائم خانی نے بتایا کہ پنجاب میں لشکر جھنگوی کی قیادت کے خلاف کارروائی اور صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر حملے کے تناظر میں بھی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ یہاں تو کوئی گروہ سرگرم نہیں ہوا۔

پولیس نے جائے وقوع اور ڈیفنس سے بہادر آباد کے راستے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے۔

ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ ملزمان رشید گوڈیل کی نقل و حرکت سےاچھی طرح واقف تھے اور وہ انہیں علاقے کی بھی مکمل معلومات تھی۔

دوسری جانب لیاقت نیشنل ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رشید گوڈیل کی حالت کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ناامیدی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے تاہم ان کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رشید گوڈیل کے دل کی دھڑکن نارمل ہے لیکن آئندہ 24 گھنٹے بہت اہم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رشید گوڈیل کو اب تک ہوش نہیں آیا ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی امید بندھی ہے کہ ان زندہ رہنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔

اسی بارے میں