2010 کے سیلاب کی تباہی کے انمٹ نقوش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر گڑھی خیرو سے دس کلومیٹر دور واقع گاؤں سوائی بروہی میں کچھ خواتین ریڈیو سننے میں مصروف ہیں اور ان سے کچھ فاصلے پر ایک خاتون خشک گھاس کاٹ رہی ہیں۔

بصرہ بروہی ان ہزاروں لوگوں میں شامل ہیں جو 2010 کے سیلاب سے متاثر ہوئے اور سیلاب ان کے مال و اسباب کے علاوہ جیون ساتھی بھی چھین کر لے گیا۔

40 مکانات پر مشتمل اس گاؤں سے سوائی بروہی نے تمام افراد کو نکال دیا لیکن خود سامان کی نگرانی کے لیے رک گئے۔ پانی کا تیز بہاؤ انھیں بہا کر لے گیا اور آج تک ان کی لاش بھی نہیں ملی۔

بصرہ بروہی کے مطابق وہ یہاں سے کیمپ میں لاڑکانہ چلے گئے، لیکن ان کا شوہر نہ آیا: ’ہم نے لوگوں سے معلوم کیا لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔ اس کے بعد انتظامیہ کی منت سماجت کی تو انھوں نے کشتی اور ہیلی کاپٹر بھیجا لیکن سب ناکام لوٹے اور ہم نے مایوس ہوکر امید ختم کر دی۔‘

اس گاؤں کے قریب ہی ان کی زمینیں موجود ہیں لیکن یہ ایک بنجر اور غیر آباد علاقہ نظر آتا ہے۔

قربان حسین نامی کسان نے بتایا کہ کئی ماہ پانی موجود رہنے کے باعث یہاں سیم و تھور ہوگئی ان کے پاس رقم نہیں تھی لہٰذا انھوں نے سود پر قرضہ لے کر کاشت شروع کی اور یہ رقم بھی محدود تھی کیونکہ ایک ہزار روپے پر دو سو روپے سود لیا جاتا ہے۔

Image caption پانچ چار سال گزرنے کے باوجود یہاں کا صحت مرکز تک فعال نہیں ہوا

2010 کے سیلاب نے صرف گھروں کو ہی نہیں اجاڑا بلکہ متاثرین کو انتظامی ڈھانچے سے بھی محروم کر دیا تھا۔ سوائی بروہی گوٹھ کے قریب شہداد کوٹ ضلعے کا امید علی جونیجو گاؤں کسی زمانے میں ماڈل ولیج ہوتا تھا اب تباہی کے مناظر پیش کرتا ہے۔

جہاں ہائر سیکنڈری سکول، وٹنری ہپستال اور صحت مرکز تھا، وہ اب آثار قدیمہ کا منظر پیش کرتے ہیں۔

پانچ چار سال گزرنے کے باوجود یہاں کا صحت مرکز تک فعال نہیں ہوا لیکن اسی کے برابر میں ڈاکٹرز ورلڈ وائیڈ نامی تنظیم اپنا صحت مرکز چلا رہی ہے۔ جہاں ہر ماہ 50 سے زائد زچگیاں ہوتی ہیں۔

یہ مرکز صحت 24 گھنٹے جاری رہتا ہے، کمزور بچے اور خون کی کمی کا شکار خواتین کی سارا دن آمد جاری رہتی ہے۔

ڈاکٹر مونیکا بتاتی ہیں کہ اس گاؤں اور آس پاس میں جو خواتین رہتی ہیں وہ شہر نہیں جا سکتیں اس لیے ان کا یہاں علاج ہوتا ہے اور مفت ادویات دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق زچگی میں پیچیدگی یا آپریشن کی صورت میں مریض شہداد کوٹ بھیجا جاتا ہے جہاں سینیئر لیڈی ڈاکٹروں سے ان کا معاہدہ ہے۔

Image caption علاقے میں ٹیلی فون ایکسچینج سمیت دیگر سہولیات بحال نہیں ہو سکی ہیں

گڑھی خیرو شہر 2010 کے سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ تقریباً سات ماہ تک یہاں کہ رہائشیوں کو شہر بدر رہنا پڑا اور جب واپس آئے تو گھروں کے ساتھ ہر سرکاری عمارت کھنڈر بن چکی تھی۔

سیلاب سے قبل گڑھی خیرو میں ٹیلیفون ایکسچینج چار سو نمبروں اور 20 ملازمین پر مشتمل تھی، سیلاب سے عمارت بری طرح متاثر ہوئی۔ ایک سال قبل یہاں ڈیجیٹل ایکسچینج نصب کی گئی اور اس کو بھی پولیس تھانے کے ایک کونے میں لگایا گیا ہے۔ اب شہر میں پی ٹی سی ایل کا صرف ایک ملازم ہے۔

میونسپل کارپوریشن کا دفتر ایک کرائے کے مکان میں قائم ہے اس عرصے میں چار صوبائی بجٹ آنے کے باوجود عمارت تعمیر نہیں ہوئی، یہی صورتحال ہائر سیکنڈری سکول کی عمارت ہے جہاں سے طالب علم اب دیگر سکولوں میں منتقل ہوگئے ہیں، اسی عرصے میں بوسیدہ عمارت کی کئی کھڑکیاں اور دروازے غائب ہو چکے ہیں۔

Image caption میر حسن کے مطابق فیکٹری میں جو چاول موجود تھے ان کو نکال نہیں سکے تھے

سرکاری عمارتوں میں گڑھی خیرو تھانے اور ہپستال کی عمارتیں بہتر حالت میں نظر آتی ہیں اور دونوں کی تعمیر غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے کی گئی ہے۔

گڑھی خیرو میں سیلاب کے دوران 15 سے زائد افراد کی ہلاکتیں ہوئی اور لوگوں کو معاشی نقصان بھی پہنچا۔

شہر میں موجود چاول کے 50 کارخانوں میں سے دو میر حسن کے والد کے ہیں۔ وہ سیلاب کے دنوں میں گھر اور کارخانے کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ اس عرصے میں ہیلی کاپٹر خوراک اور پانی دے کر جاتا تھا۔

میر حسن کے مطابق فیکٹری میں جو چاول موجود تھے ان کو نکال نہیں سکے تھے کیونکہ ان دنوں ٹرانسپورٹر فی ٹن کرایہ ایک لاکھ روپے طلب کر رہے تھے جو عام طور پر 30 ہزار روپے فی ٹن تھا، وہ کرایہ ادا نہ کر سکے جس وجہ سے دو کروڑ کا نقصان پہنچا۔

دادو ضلعے کا شہر خیرپور ناتھن شاہ بھی 2010 کے سیلاب میں کئی روز زیر آب رہا جس کی کئی ٹوٹی ہوئی سڑکیں آج بھی اس کی گواہ ہیں کہ ان پر کتنے روز پانی جمع رہا۔

Image caption بصرہ بروہی ان ہزاروں لوگوں میں شامل ہیں جن سے 2010 کے سیلاب سے متاثر ہوئے۔ سیلاب سے مال و اسباب کے علاوہ جیون ساتھی بھی چھین گیا

بحالی جمہوریت کی تحریک میں جان دینے والے سیاسی کارکنوں کے کے اس شہر میں سیلاب نے واٹر سپلائی سکیم کی مشینری کو بھی بری طرح متاثر کیا، جو تاحال فعال نہیں ہو سکی۔

ایک شہری مختیار چانڈیو نے بتایا کہ سکیم کے لیے تین تالاب بنائے گئے اور نئی مشنری کے ساتھ جنریٹر بھی لگایا گیا لیکن تکنیکی خرابی کے باعث یہ نہیں چل سکا کیونکہ ایک تالاب سے دوسرے تالاب میں پانی آنا ہے جبکہ نہری پانی کے علاوہ اس میں زیر زمین پانی بھی شامل کرتے ہیں اس وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا اور لوگ نہر کا پانی پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

حکومت سندھ کے مطابق سیلاب کے باعث 449 ارب روپے کا نقصان پہنچا، جس کی بحالی کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیا گیا۔ لیکن کئی منصوبے نچلی سطح تک منقتل نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں