گلگت بلتستان اور چترال میں دوبارہ سیلاب کا خطرہ

Image caption چترال میں گذشتہ ماہ شدید بارشوں اور سیلاب سے 32 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تعمیری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا

پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے ایک مرتبہ پھر گلگت بلتستان اور چترال میں سیلاب کے لیے وارننگ جاری کی ہے اور کہا ہے کہ پہاڑوں پر برف پگھلنے اور بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب سے مغربی ہواؤں کا نظام اور مون سون میں بارش برسانے والا نظام پاکستان میں داخل ہو سکتا ہے اور ان دونوں کے ملاپ سے مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔

چترال میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات

بارشوں کا یہ سلسلہ شمالی علاقوں میں سنیچر اور اتوار تک پہنچے گا۔

اسلام آباد میں محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دنوں شمالی علاقہ جات میں درجۂ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ہے جس سے پہاڑوں پر برف پگھل رہی ہے اور اگر اس دوران بارش ہو جائے تو برف کے پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے جس سے پہاڑی ندی نالوں میں سیلاب یا طغیانی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

چترال اور گلگت بلتستان میں ان دنوں دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرات 30 سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

Image caption بیشتر علاقوں کے لیے رابطہ سڑکیں عارضی طور پر بحال کر دی گئی ہیں

گلگت اور چترال میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محتاط رہیں۔ محکمۂ موسمیات کے حکام نے کہا ہے کہ آئندہ تین روز تک ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں بارشیں ہو سکتی ہیں لیکن چار اضلاع پشاور، مردان، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں تیز بارشوں کا امکان ہے۔

چترال میں گزشتہ ماہ شدید بارشوں اور سیلاب سے 32 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تعمیری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس نقصان کا تخمینہ چار ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے سات سو مکان مکمل تباہ ہوئے جبکہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ بجلی گھروں، سڑکوں اور پلوں کے نقصان کے علاوہ ساڑھے 13 سو ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچا جہاں فصلیں تباہ ہو گئیں۔

بالائی چترال کی طرف جانے والے بیشتر رابطہ سڑکیں یا تو سیلاب میں بہہ گئیں یا لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی تھیں۔

Image caption چترال میں بجلی کے بحران سے ڈھائی لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں

اطلاعات کے مطابق اب بیشتر علاقوں کے لیے رابطہ سڑکیں عارضی طور پر بحال کر دی گئی ہیں لیکن آبپاشی اور پینے کے پانی کے لیے پائپ لائنیں تاحال نہیں بچھائی جا سکیں۔

حکام کے مطابق چترال میں بیشتر پائپ لائنیں تباہ ہو چکی ہیں بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔

علاقے میں قائم ریشون پاور پلانٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جسے اب دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور اس پر ایک اندازے کے مطابق ایک ارب روپے تک خرچہ آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں