پاکستان: پولیو کیسز میں نمایاں کمی، نئی ویکسین متعارف

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption پاکستان میں جمعرات کو پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسین جسےانجیکٹیبل پولیو ویکسین یعنی آئی پی وی کہا جاتا ہے کو متعارف کروایا گیا

پاکستان میں پولیو کے تدارک کے لیے ملک گیر مہم میں پہلی بار ویکسین کو قطروں کے بجائے ٹیکے کی صورت میں بچوں کے جسم میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل رواں سال جنوری میں فاٹا کے کچھ علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطروں کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں جمعرات کو پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسین جسےانجیکٹیبل پولیو ویکسین یعنی آئی پی وی کہا جاتا ہے کو متعارف کروایا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ ویکسین ملک کے 40 لاکھ سے زائد بچوں کو لگائی جائے گی۔

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو اب تک پولیو سے محفوظ قرار نہیں دیے جا سکے۔

نائجیریا میں رواں سال کے آغاز پر پولیو سے بچاؤ کے انجیکشن لگائے گئے تھے جبکہ افغانستان میں بھی جلد ہی آئی پی وی ویکسین کو متعارف کروایا جائے گا۔

پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے صحت سائرہ افضل تاڑر آئی پی وی کو متعارف کروانے کے موقع پر منعقد کی گئی تقریب سے خطاب میں بتایا کہ ملک میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس اگست تک پاکستان میں پولیو کے 115 کیسز رجسٹرڈ ہو چکے تھے تاہم اس کے مقابلے میں رواں سال اب تک فقط 29 کیسز سامنے آئے ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے صحت سائرہ افضل تاڑر نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ سنہ 2016 تک پاکستان سے پولیو وائرس کامکمل خاتمہ ممکن ہو سکےگا۔

خیال رہے کہ انجیکشن کی صورت میں دی جانے والی اس ویکسین کی قیمت بھی زیادہ ہے اور اس لگانے کے لیے ایک تربیت یافتہ نرس کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم قطروں کے برعکس اس ویکسین کا یہ فائدہ ہے کہ پولیو وائرس کے حلاف مدافعت کے لیے اس کی ایک خوراک ہی کافی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں گذشتہ برس پولیو کے 316 کیسز سامنے آئے تھے جو 14 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے

عالمی ادارۂ صحت سے منسلک ڈاکٹر لامیہ محمود کا کہنا ہے کہ آئی پی وی پولیو وائرس کے خلاف خاص طور پر ان بچوں میں مدافعت پیدا کرنے میں کار آمد ہوتی ہے جنھیں اس سے قبل مطلوبہ مقدار میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ہوں۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اسد حفیظ کے مطابق یہ ویکسین 14 ہفتوں یعنی چار ماہ کی عمر کے بچوں کو لگائی جانی شروع کی جائے گی۔

انسدادِ پولیو مہم میں شامل ٹیموں کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2012 سے لے کر اب تک ان کے 78 ورکرز شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ برس پاکستان میں پولیو کے 316 کیسز سامنے آئے تھے جو 14 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

سائرہ افضل تاڑر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا موقع ملا۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق تقریب میں شریک نیشنل پولیو پروگرام کے مینیجر ڈاکٹر سید ثقلین احمد گیلانی نے بتایا کہ پاکستان نے دیگر 126 ممالک کی طرح اس ہدف کو پورا کر لیا ہے جس کے تحت ہمیں سنہ 2015 کے آخر تک معمول کی انسدادِ پولیو مہم میں آئی پی وی کو متعارف کروانا تھا۔

اسی بارے میں