’پیر نے ماں بیٹی کو دھونی دے کر مار ڈالا‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ملزمان پیر عبدالحمید اور اُس کی مریدنی حسینہ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے کوٹ ادو میں پولیس نے ایک پیر اور اس کی خاتون مرید کے خلاف دو مریضوں کو شفایاب کرنے کے لیے اُنھیں دھونی دے کر مارنے کرنے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

کوٹ ادو کے سب ڈویژنل پولیس افسر عبدالرحمنٰ عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ کوٹ ادو کے علاقے کے رہائشی غلام فرید کی بیوی جنت مائی نے گھر میں کھانا بنایا جس کو کھانے کے بعد اس کی بیوی اور بیٹی خالدہ کی حالت غیر ہو گئی۔

مذکورہ شخص نے اس حالت کو دیکھتے ہوئے اُنھیں گاؤں میں ایک حکیم عبدالحمید کے پاس لے کر گیا جو حکمت کے ساتھ ساتھ دم درود کرنے کا کام بھی کرتا تھا۔

پولیس افسر کے بقول مذکورہ پیر نے اپنی مریدنی حسینہ بی بی کی مدد سے پہلے تو اُنھیں کچھ دوائی دی جس کا کوئی اثر نہ ہوا، جس کے بعد اگلے روز ان دونوں ماں بیٹی کو ایک کمرے میں بند کر دیا اور کمرے کے باہر آگ لگا کر کچھ عمل کرنا شروع کر دیا۔

دم گھٹنے کی وجہ سے ان دونوں ماں بیٹی کی حالت غیر ہوگئی تو اس نے مدعی کو ان دنوں کو مقامی ہسپتال میں لے جانے کی ہدایت کی۔ پیر کے بات مانتے ہوئے مذکورہ شخص ان دونوں ماں بیٹی کو ہستپال لے کر گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

ڈی ایس پی عبدالرحمنٰ نے بقول مذکورہ شخص نے مقامی ہسپتال سے دونوں لاشوں کو وصول کرنے کے بعد دفنا دیا اور بعدازاں دو روز کے بعد پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو علاج کے لیے حکیم کے پاس لے کر گیا تھا جس نے ان دونوں کی بیماری دور کرنے کے لیے اُنھیں کمرے میں بند کر کے کمرے کے باہر آگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے اُن کی موت واقع ہو گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزمان پیر عبدالحمید اور اُس کی مریدنی حسینہ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

سب ڈویژنل پولیس افسر کے بقول پولیس ہلاک ہونے والی ماں بیٹی کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کے لیے دوبارہ قبر کشائی کی درخواست متعلقہ عدالت کو دے گی۔

واضح رہے کہ صوبہ پنجاب کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں روحانی علاج کروانے کے مختلف واقعات میں متعدد افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں سے بہت سے مقدمات اب بھی زیر تفتیش ہیں۔

اسی بارے میں