گجرات میں روحانی پیشوا کو ’رسول‘ کا درجہ دینے پر کشیدگی

پنجاب پولیس (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں پولیس کے مطابق عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے چند افراد کی طرف سے ایک آنجہانی روحانی پیشوا کو رسول کا درجہ دینے کے واقعہ پر علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں ایلیٹ فورس کے جوانوں کی ایک بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔

آنجہانی روحانی پیشوا کو ’رسولکا درجہ دینے پر چار افراد گرفتار

سب ڈویژنل پولیس افسر مرتضیٰ گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو فضل کالونی میں تعینات کر دیا گیا ہے جہاں پر مسیحی برادری کے لوگ بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ شہر میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کے باہر بھی پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

مرتضیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد شہر میں مختلف مذہبی تنظیموں نے احتجاج کا پروگرام بنایا ہے اور نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں مختلف مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں سے بات چیت جاری ہے جنھوں نے مقامی انتظامیہ کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران پرامن رہیں گے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ فضل مسیح کی برسی کے موقع پر چھپوائے گئے اشتہارات میں اُنھیں رسول کا درجہ دینے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے چار افراد سے تفتیش مکمل کر لی گئی ہے اور اس مقدمے کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جلد ہی پیش کر دیا جائے گا۔

اس سے پہلے جمعرات کوگجرات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک آنجہانی روحانی پیشوا کو رسول کا درجہ دینے پر چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے ان افراد کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کا مقدمہ درج کر کے مقامی عدالت سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا۔

پولیس افسر مرتضیٰ گیلانی کے مطابق مقامی مسیحی آباد مغل کالونی میں ایک مقامی روحانی پیشوا فضل مسیح کی برسی کے موقعے پر اُن کے مریدوں نے اشتہارات چھپوا کر شہر کے مختلف حصوں میں لگوائے تھے۔

پولیس افسر کے بقول ان اشتہارات میں فضل مسیح کو رسول کا درجہ دیا گیا، جسے پڑھ کر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔

ان کے مطابق اس پر صرف کچھ لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا بلکہ مقامی پولیس کے بقول کچھ لوگ مغل کالونی میں رہائش پذیر مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملہ کرنے کے لیے علاقے میں پہنچ گئے، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہونے دیا۔

اسی بارے میں