اسلام آباد: مدرسے پر رینجرز کا چھاپہ، تین افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے یہ چھاپہ مقامی پولیس کو اطلاع دیے بغیر رینجرز اہلکاروں کی مدد سے مارا

پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کے قتل کے مقدمے میں اسلام آباد میں ایک مدرسے پر چھاپہ مار کر تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ چھاپہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ کے گرین ایریا میں واقع ایک مدرسے پر مارا گیا۔

پولیس کے مطابق حراست میں لیے جانے والے تین افراد میں قاری امداد اللہ، قاری ارشاد اور شوکت علی شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے یہ چھاپہ رینجرز اہلکاروں کی مدد سے مارا، اور اس کی اطلاع مقامی پولیس کو نہیں دی گئی تھی۔

البتہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقامی پولیس کو مذکورہ افراد کو حراست میں لیے جانے سے متعلق آگاہ کر دیا گیا تھا۔

محمکہ انسداد دہشت گردی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم شوکت کے خلاف انسداد دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں تفتیش چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ خودکش جیکٹیں تیار کرنے کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کا سہولت کار بھی تھا۔

اہلکار کے مطابق ملزم شوکت علی صوبائی وزیر داخلہ کے قتل کے اگلے روز ہی دیگر دو ملزمان کے پاس آیا تھا اور مذکورہ ملزم کے موبائل فون سے کی جانے والی کالوں کے ذریعے سراغ لگا کر ان افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی سرچ آپریشن کے دوران شجاع خانزادہ کے قتل کے سلسلے میں تین افغان باشندوں کو گرفتار کیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والے افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور جلد ہی اس وقوعے کے سرغنہ کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر ممکنہ حملے سے متعلق بروقت اطلاع نہ دینے پر راولپنڈی پولیس کے سپیشل برانچ کے ایس ایس پی رانا شاہد پرویز کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اٹک کے ضلعی پولیس افسر کو بھی اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم اُنھیں کہا گیا ہے کہ جب تک کسی نئے افسر کی تعیناتی نہیں ہوتی اس وقت تک وہ اس عہدے پر کام کرتے رہیں۔

اسی بارے میں