’وزیراعظم کا لہجہ دھمکی آمیز تھا، ایوانوں سے مستعفی سمجھا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہر قیمت پر ان کے استعفے قبول کرنا ہوں گے

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اسمبلیوں میں واپسی کے لیے حکومت سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اراکین کو قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ اسمبلی سے مستعفی سمجھا جائے۔

جمعے کی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے گذشتہ روز دورہ کراچی میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور ایم کیو ایم سے مذاکرات اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی بات نہیں کی۔

ایم کیو ایم کے اراکین مستعفی

’ثالثی پر اعتماد ہے‘

ایم کیو ایم کے استعفے موثر ہو چکے ہیں

بیان کے مطابق اجلاس میں اسمبلیوں سے ایم کیو ایم کے استعفوں کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کی جانے والی ثالثی اور حکومتی رویے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز دورہ کراچی کے موقع پر ’وزیراعظم نواز شریف نے غروروتکبر اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کر کے نہ تو مولانا فضل الرحمن کے ثالثی کردار کی قدر کی اور نہ ہی کراچی کے لاکھوں غم زدہ اور روتے تڑپتے عوام کے زحموں پر مرہم رکھا۔‘

اپنے تحریری بیان میں ایم کیو ایم نے شکوہ کیا کہ وزیراعظم نے کراچی آکر مذاکرات کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا اور نہ ہی ایم کیو ایم کی جائز شکایات کا نوٹس لے کر ان کا ازالہ کرنے کا کہا۔

ایم کیو ایم نے حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے رکنِ اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ’مولانا صاحب بزرگ کی حیثیت سے جب چاہیں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن ہم ان سے انتہائی معذرت کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے صلح کار، مذاکرات کار یا ثالث کی حیثیت سے مزید زحمت نہ کریں۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو ہر قیمت پر استعفوں کے فیصلے کو قبول کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے رہنما فارق ستار کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی عائد کر دی گئی جو کہ اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے

’ایم کیو ایم کے ایک ایک منتخب رکن کو تینوں ایوانوں سے مستعفی سمجھا جائے۔‘

استعفوں کی وجوہات

12 اگست کو استعفے دینے سے قبل ایوانِ زیریں میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما فاروق ستار نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ اُن کی جماعت کے 40 سے زیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جبکہ گذشتہ 8 ماہ کے دوران 200 کارکنان کو رینجرز اور پولیس نے گرفتار کیا ہے لیکن آج تک اُنھیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے بارے میں وزیر اعظم نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جو اس ’ماورائے عدالت اقدام‘ اور اس آپریشن کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرے گی لیکن آج تک اس کمیٹی کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ اُنھیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملا اور فوج کے سربراہ اور کراچی کے کورکمانڈر نے بھی انھیں ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا اور ایسے حالات میں اُن کی جماعت کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا میڈیا ٹرائل کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے ایم کیو ایم کا ہاتھ ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ فوج سے متعلق بیان دینے پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی عائد کر دی گئی جو کہ اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے جبکہ اس سے سخت الفاظ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے ادا کیے تھے لیکن اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں