’پاکستان میں تین یورپی ممالک کی آبادی سے زائد معذور افراد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری سطح پر 1998 کے بعد مردم شماری نہ ہونے کے باعث پاکستان کی کل آبادی کے اعدادوشمار موجود نہیں ہیں

پاکستان میں معذور افراد کی تعداد یورپ کے تین ممالک سوئیڈن، سوئیٹزر لینڈ اور آسٹریا کی آبادی سے زیادہ ہے۔

یہ بات صحت سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جمعے کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔

سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس کی صدارت چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے کی۔

اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کی ٹیکنیکل مشیر ڈاکٹر مریم ملک نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معذور افراد دنیا کی 15فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معذور افرادکی تعداد سوئیڈن، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کی آبادی سے زیادہ ہے۔

تاہم تحریری بیان میں اعدادو شمار بیان نہیں کیے گئے اور نہ ہی معذور افراد کے لیے پاکستان کے سرکاری ادارے پاکستان ڈس ایبل فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر ملک کی معذور آبادی کی تعداد موجود ہے۔

ڈاکٹر مریم ملک نے بتایا کہ ان افراد کوبہت سے مسائل کا سامنا ہے غیرسرکاری تنظیمیں ان مسائل کے حل کے لئے کام کر رہی ہیں۔

چیف سیکرٹری سیف اللہ چھٹہ نے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کو معذور افراد کی بہتری کے لئے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ معذور افراد کے لیے صوبائی حکومت ڈویژنل سطح پر سکول قائم کر نے کی کوشش کرے گی اور ان افراد کی ملازمت کیلئے مختص کردہ کوٹہ پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں