کیچ سے مغوی مزدوروں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

بلوچستان میں عسکریت پسند تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں عسکریت پسند سکیورٹی ایجنسیوں اور وہاں کام کرنے والوں پر حملے کرتے رہتے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

یہ لاشیں سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے چار مزدوروں میں سے تین کی تھیں جن کو تین روز قبل نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

تربت میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق انہیں اتوار کو ضلع کیچ کے علاقے دشت میں لاشوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

اس اطلاع پر لیویز فورس کا عملہ اس علاقے میں پہنچا اور وہاں سے تین افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا۔

انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق چار مزدوروں کو تین روز قبل ایک گاڑی میں تلار جاتے ہوئے دشت کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔

بعد میں ان میں سے تین کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں دشت ہی کے علاقے میں پھینک دی گئیں۔

ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پہلے بھی تعمیراتی کمپنیوں کی مشینری اور وہاں کام کرنے والے کارکنوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

چند روز قبل کیچ ہی کے علاقے دشت میں سنگئی کے مقام پر عسکری تعمیراتی ادارے کی ایک گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔

اس حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے ۔

اس سال اپریل میں تربت کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں 20 مزدور ہلاک ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ماہ گوادر کے علاقے پسنی میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کے ایک منصوبے پر کام کرنے والے تین افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں