گذشتہ برس اغوا ہونے والے چینی سیاح کو بازیاب کروا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی سیاح کو بازایاب کروانے کے بعد اتوار کو چین کے سفارت خانے کے حوالے کیا جائے گا: چوہدری نثار علی

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے گذشتہ سال پاکستان سے اغوا ہونے والے ایک چینی شہری کو بازیاب کروا لیا ہے۔

اسلام آباد میں اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے خفیہ اداروں نے ہفتے اور اتوار کی درمیان شب ایک بڑا آپریشن کر کے چینی سائیکلسٹ کو بچایا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے اغوا ہونے والے چینی سیاح کو اتوار کو چینی سفارت خانے کے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ سال 19 مئی میں چینی سیاح ہونگ بوڈانگ سائیکل کے ذریعے دنیا کا سفر طے کرنے کے لیے تبت، نیپال اور بھارت سے ہوتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے بلوچستان کی طرف جا رہے تھے کہ انھیں اغوا کر لیاگیا۔

پولیس کے مطابق چینی سیاح نے اپنے سفر کے بارے میں پاکستان یا چینی حکام کو اطلاع نہیں دی تھی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن روڈ سے اغوا ہونے والے چینی سیاح کے واقعے میں طالبان سے منسلک گروہ شامل تھا۔

تاہم پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ نے چینی سیاح کی بازیابی کے لیے گئے آپریشن کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

انھوں نے کہا کہ ’چینی سیاح کو ایک انٹیلیجنس آپریشن کے ذریعے بازیاب کرا لیا گیا ہے اور انھیں گذشتہ رات گئے ہمارے حوالے بھی کر دیا گیا۔ اتوار کو کسی بھی وقت انھیں چینی سفارتخانے کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ آئندہ ایک دو روز میں وہ چین چلے جائیں۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا انٹیلیجنس آپریشن تھا کیونکہ چینی صدر سے لے کر ان کے وزرا اور سفیروں تک سب نے بارہا چینی سیاح کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل رواں سال مئی میں طالبان سے منسلک جنگجوؤں نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں چینی سیاح اپنی بازیابی کے لیے چین کی حکومت سے اپیل کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اغوا کاروں کو تاوان کی ادائیگی کر کے اُسے رہا کروایا جائے۔

طالبان سے منسلک گروہ جیش الحدید نے یہ ویڈیو جاری کی تھی جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں