’ہم آج بھی وہینچ کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک کے سفارت کار ایک مرتبہ پھر مذاکرات نہ ہونے کے ذمہ دار ہیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھر بات چیت نہیں ہوسکی۔ ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے رہنماوں کی جانب سے اوفا میں جاری مشترکہ بیان کی تشریح پر مسئلہ اٹک گیا۔

دونوں ممالک کے سفارت کار ایک مرتبہ پھر مذاکرات نہ ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ روسی شہر اوفا سے لوٹنے کے بعد دونوں ممالک نے اپنے اپنے سخت موقف والے چشمے پہن کر جب اس دستاویز کو غور سے دیکھا تو دونوں کو اپنے اپنے مطلب کی چیزیں اس میں دکھائی دینے لگیں۔

ایک اسے یہ مطلب نکالنے لگا کہ اس کے تحت ’تمام مسائل‘ پر بات ہونی چاہیے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ بات تو صرف ’دہشت گردی‘ پر ہونی طے پائی تھی۔

اگر بالفرض بھارت کا موقف تسلیم کر بھی لیا جائے کہ بات دہشت گردی پر ہی کرنی ہے تو کیا کشمیر میں بھی اسے اسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ کیا وہاں کے عوام کو ریاستی یا غیرریاستی بنیادوں پر اس کا سامنا نہیں ہے؟ وہاں رونما ہونے والے تشدد کو پہلے سے کئی نام دیے جا رہے ہیں۔ کوئی اسے جنگ آزادی کہتا ہے تو کوئی دہشت گردی، کوئی اسے مسلح مزاحمتی تحریک قرار دیتا ہے تو کوئی اسے جدوجہد کے نام سے یاد کرتا ہے۔

کشمیر کے موضوع پر بات کرنے کے انکار سے تو لگتا ہے کہ اب بھارت کشمیر میں جاری ’آتنگ واد‘ کو دہشت گردی نہیں مانتا ہے وہ کچھ اور ہے۔

خود بھارت ہی تو وہاں کی مسلح تحریک کو دہشت گردی قرار دے کر اس پر واویلا کرتے نہیں تھکتا تھا تو اب کیا ہوا ہے۔ یا اس دہشت گردی کے نام کے تحت دلی میں مشیروں کی کشمیر پر بات نہیں ہوسکتی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption بھارت کی جانب سے مذاکرت نہ ہونے کی ناکامی ایک اور بڑی وجہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی مانا جا رہا ہے

بھارت کا یہ موقف بھی مبہم سا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان اوفا اور شملہ معاہدوں کے تحت باہمی موضوعات پر ہی بات کرسکتے ہیں اس میں تیسرے فریق کی گنجائش نہیں ہے اور یہ کہ کشمیر رہنما تیسرا فریق ہیں۔ لیکن وہ شاید یہ بھول رہا ہے کہ کشمیری عوام اور رہنما تو مسئلہ کے اصل فریق ہیں۔ بھارت اور پاکستان اکیلے بیٹھے کر اس کا کیا کوئی پائیدار حل نکال پائیں گے؟ ماضی میں بھی پاکستانی رہنماوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات سے قبل کشمیری قیادت سے ملاقاتیں کیں ہیں۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ ہونے نہیں جا رہا تھا۔

سال 2001 میں آگرہ مذاکرات کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اس کی جازت دی تھی۔

بھارت کی جانب سے مذاکرت نہ ہونے کی ناکامی ایک اور بڑی وجہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی مانا جا رہا ہے۔ انگریزی اخبار ڈان کے سابق مدیر عباس ناصر نے اس جانب توجہ اپنی ایک ٹویٹ میں دلاتے ہوئے لکھا کہ یہ ’سخت گیر سشما سوراج ہی تھیں جنھوں نے آگرہ میں اپنی جماعت کے رہنماؤں کی ایما پر مشرف مذاکرات کو ناکام کیا تھا۔ اب وہ یہی سب کچھ بطور وزیر خارجہ کر رہی ہیں۔‘

آگرہ کے وقت سشما سوراج وزیر اطلاعات تھیں۔ صدر مشرف نے ان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سشما نے ایک ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ باہمی مذاکرات میں کشمیر پر بات نہ ہونے کا تاثر دیا جوکہ بقول ان کے غلط تھا۔ لیکن ایک بات اس وقت بھی واضح تھی اور آج بھی ہے کہ سفارت کاری اگر میڈیا کے ذریعے ہوگی تو اس کا حشر آج ہمارے سامنے ہے کہ آگرہ سے زیادہ مختلف نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اگر بالفرض بھارت کا موقف تسلیم کر بھی لیا جائے کہ بات دہشت گردی پر ہی کرنی ہے تو کیا کشمیر میں بھی اسے اسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہے

اب آتے ہیں پاکستان کی جانب۔ اسلام آباد کے اوفا سے قبل کشمیر کے مسئلے پر موقف کے اچانک دوبارہ سخت ہونے کی ایک وجہ شاید اوفا میں جاری مشترکہ بیان میں اس نرمی کا مداوا کرنا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کی مشترکہ بیانات کی تاریخ میں کشمیر کا پہلی مرتبہ ذکر نہ ہونا تھا۔ اس وقت یہ بات کی گئی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف کو واپسی پر حزب اختلاف خصوصاً سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔

یہ بیان نواز شریف پر کئی حلقوں میں شدید تنقید کو باعث بھی بنا لیکن کسی نے اسے ان پر ان کی سیاسی زندگی تنگ کرنے کا سبب نہیں بنایا۔ سب سے زیادہ معنی خیز اس پر پاکستان فوج کی مکمل خاموشی تھی۔ انھوں نے اس پر اطیمنان یا عدم اطمینان کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا۔ شاید اس کی وجہ وزیر اعظم نواز شریف اور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان باقاعدگی سے ہونے والی ’ون ٹو ون‘ ملاقاتیں ہیں۔ عوامی سطح پر میلے کپڑے دھونے سے بہتر ہے کہ کشمیر جیسے سنگین مسائل پر بات اعلیٰ ترین سطح پر ہو۔

پاکستان کے اوفا میں سوئے اور دلی کے لیے جاگے کشمیری موقف سے فی الحال محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید رابطوں کا مستقبل قریب میں امکان ختم کر دیا ہے۔ ہاں امریکہ وزحر خارجہ جان کیری کو شاید دوبارہ ٹیلیفون گھمانے کی ضرورت محسوس ہو یا پھر ستمبر میں اقوام متحدہ کا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان لوڈشیڈنگ کی طرح آن آف مذاکراتی عمل میں کچھ مدت کے لیے دوبارہ جان ڈال دے۔ ورنہ یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ’ہم آج بھی وہینچ کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے۔‘

اسی بارے میں