باجوڑ میں دھماکوں میں امن کمیٹی کے رہنما ہلاک، چار اہلکار زخمی

Image caption باجوڑ ایجنسی ہی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک اور حملے میں فوج کے چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان مخالف امن کمیٹی کے رہنما پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں ایک قبائلی ملک ہلاک جبکہ چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دونوں واقعات اتوار کی صبح ایجنسی کے دور افتادہ سرحدی علاقے ماموند تحصیل میں پیش آئے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے قبائلی رہنما محمد خان گھر سے باہر نکل رہے تھے کہ اس دوران ایک دھماکہ ہوا جس میں وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ انھوں نے بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد قبائلی مشر کے گھر کے سامنے نصب کیا گیا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے قبائلی مشر پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل ماموند کے صدر بھی تھے۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ادھر دوسری طرف باجوڑ ایجنسی ہی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک اور حملے میں فوج کے چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ تحصیل ماموند کے علاقے سپری میں صبح کے وقت پیش آیا ۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پیدل جارہی تھی کہ اس دوران اُن پر حملہ کیا گیا جس میں فوج کے چار اہلکار زخمی ہوئے۔

تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ حملہ ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا ہے یا دور سے فائرنگ کی گئی ہے۔

زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں کے دوارن سیاسی رہنماؤں، امن کمیٹی کے اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ روز بھی آرنگ کے علاقے میں ایک قبائلی سردار کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے چند دن قبل باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاسی مشیر آخونزادہ چٹان کے صاحبزادے کو گھر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بازیاب کرایا گیا تھا۔

باجوڑ ایجنسی میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں، امن کمیٹیوں کے رضاکاروں، قبائلی سرداروں اور پولیو کارکنوں پر متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں