پاکستان میں جعلی پینشنروں کے سکینڈل کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متعلقہ اداروں سے 15 برس میں پینشن میں ہونے والے اضافے اور کمی کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جعلی پنشروں کے سکینڈل (گوسٹ پینشنرز سکینڈل) کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سید احمد اقبال اشرف نے گذشتہ دنوں سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ کم از کم چھ لاکھ جعلی پینشنر موجود تھے جنھیں اندرونی آڈٹ کے تحت ختم کر دیا گیا ہے۔

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمیٹی نے پینشنرز سکینڈل کی مکمل تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پینشن نظام کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کا ایک اجلاس تین ستمبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور پینشن کی تقسیم کار سے بالواسطہ یا براہ راست وابستہ تمام متعلقہ اداروں کو طلب کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں سے پینشن کا 15 سالہ ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

توقع ہے کہ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ملک بھر میں کتنے پینشنر ہیں اور وہ ماہانہ کتنی پینشن وصول کر رہے ہیں ۔

متعلقہ اداروں سے 15 برس میں پینشن رقوم میں ہونے والے اضافے اور کمی کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے جبکہ اس دوران وفات پانے والے ملازمین کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

کمیٹی اس بات کی انکوائری کرے گی کہ چھ لاکھ پینشنروں نے قومی خزانے کو کن اداروں یا افراد کی ملی بھگت سے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گھوسٹ پینشنرز سکینڈل اس بات کا ثبوت ہے کہ پینشن کا نظام ناکام ہو چکا ہے، جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی پاکستان میں پینشن کے نظام کو شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی سفارشات پیش کرے گی تاکہ پینشنروں کو آسانی میسر آ سکے اور اس نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ جعلی پینشنروں کا سکینڈل حادثاتی طور پر کمیٹی کے سامنے آیا ہے مگر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

اسی بارے میں