مذاکرات میں معاملہ تقاریر کا ہے یا کہ آپریشن کا؟

Image caption حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کو روکنے یا اس میں کسی قسم کی تبدیلی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں

ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں الطاف حسین کی تقریروں پر حکومت کی طرف سے غیر رسمی پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ اہم نکتہ بن گیا ہے۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ایم کیو ایم کا اصرار ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر پر لگی پابندی ختم کر کے انھیں بلاروک ٹوک نشر کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس وقت دارالحکومت اسلام آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ سے استعفوں کی واپسی کے معاملے پر مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔گذشتہ روز بھی ایم کیو ایم اور حکومتی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنھیں کامیاب قرار دیا جا رہا تھا۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم اور حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم کے منتخب اراکین کے استعفوں کے ساتھ پیش کیے جانے والے 19 نکات اب سمٹ کر صرف چھ یا سات نکات پر آ گئے ہیں۔

ان نکات میں جو اس وقت زیرِ بحث ہیں ان میں ایم کیو ایم کے کارکنان کی ماورائے عدالت ہلاکتیں، 170 کے قریب لاپتہ کارکنان کے بارے میں معلومات، گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کرنا، 90 دنوں تک زیر حراست کارکنان تک ان کے خاندان اور وکلا کی رسائی سمیت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر بلاخلل نشر کروانا بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دو اگست کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ الطاف حسین کی تقاریر کو ٹی وی چینل پر براہ راست نشر کرنے پر تو پابندی عائد کی گئی ہے لیکن حکومت ایم کیو ایم کے قائد کی تقریر پر مکمل پابندی کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ کے حکام کے ساتھ الطاف حسین کی تقاریر کا معاملہ قانونی طور پر اُٹھایا جائے گا۔

کیا ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی کراچی آپریشن پر اعتراضات کے باعث مستعفی نہیں ہوئے؟ مذاکرات کے نکات سے تو یہ لگ رہا ہے کہ اس وقت کراچی آپریشن پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔

اس سوال کے جواب میں حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کو روکنے یا اس میں کسی قسم کی تبدیلی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں اور یہ بھی کہ اگر حکومت چاہے بھی تو کراچی آپریشن پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

ایم کیو ایم کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کراچی آپریشن کو روکنے یا اس میں تبدیلی پر ان کی حکومت سے کوئی بات نہیں ہو رہی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایم کیو ایم اس وقت ’فیس سیونگ‘ یا خفت بچانا چاہتی ہے، حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ خفت سے بچنا بھی چاہتی ہے اور حکومت اسے خفت سے بچانے کے لیے تیار بھی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اسے فیس سیونگ نہ سمجھا جائے کیونکہ ہم تبھی استعفے واپس لیں گے جب حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات ماننے اور اس پر عمل درآمد کی ضمانت دی جائے۔

اسی بارے میں