’532 مدارس کی چھان بین، ریاست کے خلاف کارروائی میں ملوث نہیں‘

وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان پنجاب اسمبلی کی عمارت کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے یہ بات منگل کو پنجاب اسمبلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں مختلف اوقات میں حکومت کو خطرات سے آگاہ کرتی رہتی ہیں اور اس دفعہ پنجاب اسمبلی پر حملے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے جس کے بعد عمارت کی حفاظت کے فول پروف انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر قانون نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے شروع ہونے سے اب تک صوبے بھر میں 13,700 سے زائد مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے اور حکومت کے پاس ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبا اور اساتذہ کے کوائف موجود ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 532 مدارس کی مکمل چھان بین بھی کی گئی ہے اور ان میں ایک بھی ایسا مدرسہ نہیں جو ریاست کے خلاف کارروائی میں ملوث ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مدارس کی تلاشی کے دوران 1100 افراد کو حراست میں لیا گیا جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

وزیرِ قانون نے بتایا کہ مدارس کے علاوہ صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں اور ان کے ہاسٹلوں میں بھی کاروائی کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 50 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ عمل میں لایا جا رہا جس کے تحت صوبے کے پانچ بڑے شہروں لاہور، ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں دسمبر سنہ 2016 تک کیمرے نصب کیے جائیں گے جس سے نہ صرف جرائم میں کمی آئے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اٹک میں صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر ہونے والے خود کش حملے میں ملوث دہشت گردوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سکیورٹی انتظامات میں غفلت کی تحقیقات کے لیے بھی انکوائری کی جا رہی ہے کیونکہ ان کی حفاطت کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔

صوبائی وزیرِ قانون نے کہا کہ بدھ سے شروع ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں متعدد بل پیش کیے جائیں گے جن میں خواتین کے خلاف تشدد کا بل اور لوکل گورنمٹ کے قانون میں ترمیم کا بل شامل ہے۔

اسی بارے میں