کراچی میں لائسنس وائن دکانوں کی تفصیلات طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption درخواست گذار نے آئی جی سندھ پولیس، محکمہ ایکسائز اور چیف سیکریٹری کو بھی فریق بنایا ہے

سندھ ہائی کورٹ نے ایک مسیح شخص کی درخواست پر کراچی کے مسلم آبادی والے علاقوں میں قائم لائسنس وائن دکانوں کی تعداد اور ان علاقوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

یہ درخواست سندھ ہائی کورٹ میں سلیم رضا مسیح نامی ایک شخص نے دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہر میں غیر لائسنس وائن دکانیں قائم ہیں جو غیر قانونی طور پر کاروبار کر رہی ہیں۔

درخواست گذار کا موقف ہے کہ یہ وائن دکانیں اقلیتی آبادی کے علاقوں کے علاوہ مسلم آبادیوں میں بھی قائم ہیں اور یہ قانون کے خلاف رمضان میں بھی کھلی رہیں۔

درخواست گذار نے آئی جی سندھ پولیس، محکمہ ایکسائز اور چیف سیکریٹری کو بھی فریق بنایا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس غیر قانونی کاروباری کی محکمہ ایکسائز اور پولیس سرپرستی کرتی ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس جنید غفار پر مشتمل ڈویژن بینچ میں بدھ کو سماعت کے موقعے پر مدعی سلیم رضا نے درخواست واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ اسلام آباد منتقل ہو رہے ہیں اس لیے درخواست کی مزید پیروی نہیں کرسکتے۔

جج صاحبان نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں جو نکات اٹھائےگئے ہیں وہ درست ہیں، اس لیےسماعت جاری رہنے چاہیے۔

عدالت نے ڈائریکٹر ایکسائز کو ہدایت کی کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ شہر میں کہاں کہاں اور کتنے لائسنس یافتہ وائن دکانیں ہیں اور کیا ان کی وجہ سے شہریوں کو کسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ شہر میں لائسنس یافتہ وائن دکانیں قائم ہیں اور وہ واضح کردہ قوانین کے تحت کاروبار کرتے ہیں۔

عدالت نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کراچی کے تمام اضلاع کے ایکسائز افسر ضلعے وار تفصیلات پیش کریں جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 28 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں