باجوڑ ایجنسی میں دھماکے میں قبائلی رہنما ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption باجوڑ ایجنسی میں ایک مرتبہ پھر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سڑک کنارے دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں ایک قبائلی رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر خار سے کوئی 45 کلومیٹر دور بر چمر کند میں ہوا۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق دھماکہ صبح سویرے اس وقت ہوا جب ملک رحیم گل وہاں سے پیدل گزر رہے تھے۔ اس دھماکے میں رحیم گل موقع پر ہلاک ہو گئے ہیں۔

درین اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی ان کے کمانڈوز نے کی ہے اور اس میں حکومت کے حمایتی امن لشکر کے سربراہ رحیم گل کو نشانہ بنایا گیا۔

باجوڑ ایجنسی میں ایک مرتبہ پھر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران قبائلی رہنماؤں اور سکیورٹی فورسز پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ ہلاک ہونے والے قبائلی رہنماؤں میں فضل کریم، دعوہ خان اور محمد خان شامل ہیں جبکہ اس میں ایک قبائلی ملک کے ساتھ ایک بچہ بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ملک محمد خان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھے اور وہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے تحصیل ماموند کے صدر تھے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے ان کی ہلاکت پر بیان جاری کرتے ہوئے اس ایک حملے کی سخت مذمت کی تھی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب میں چند روز پہلے فورسز نے زمینی کارروائی شروع کی ہے۔

بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف آج یعنی جمعرات کو شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کا دورہ بھی کر رہے ہیں جہاں فوج نے زمینی کارروائی شروع کی ہے۔

ادھر خیبر ایجنسی میں آج صدر ممنون حسین جمرود کا دورہ کریں گے جہاں وہ پاک افغان شاہراہ کا افتتاح کریں گے۔

پاکستان کے اس شورش زدہ علاقے خیبر ایجنسی میں گذشتہ سات سالوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور ایک بڑے عرصے کے بعد صدر پاکستان اس قبائلی علاقے کا دورہ کریں گے۔

اسی بارے میں