سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم 90 دن کے لیے رینجرز کی حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عاصم حسین کا شمار سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے

کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم کو رینجرز نے 90 روز کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔

ادھر کراچی میں ہی انسدادِ رشوت ستانی کی وفاقی عدالت نے ایک ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں پیپلز پارٹی کے ہی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔

کراچی میں بدھ کو سندھ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر سے سادہ کپڑوں میں اہلکاروں نے ڈاکٹر عاصم کو حراست میں لے لیا تھا اور قومی احتساب بیورو کی ترجمان نے ان کی گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کو 24 گھنٹوں کے بعد جمع کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سلیم رضا بلوچ کی عدالت میں پیش کیا اور آگاہی دی کہ انہیں 90 روز کے لیے حراست میں رکھا گیا۔

اس تحریری آگاہی میں ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ان سے تفتیش کی جائے گی۔

ڈاکٹر عاصم کو بغیر ہتھکڑیوں کے عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ان کا طبی معائنہ کرانے اور خاندان سے ملاقات کرانے کا بھی حکم جاری کیا۔

ڈاکٹر عاصم کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ ان کی اسیری کے دوران ان کے معالج بھی رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد انہیں 2008 چیئرمین نیشنل ری کنسٹریشن بیورو تعینات کیا گیا، 2009 میں سینیٹر منتخب کیا گیا لیکن سپریم کورٹ کے دوہری شہریت کے بارے میں فیصلے کے بعد انہیں 2012 میں مستعفی ہونا پڑا۔

مستعفی ہونے سے قبل وہ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر بھی رہے اور اس عرصے میں سی این جی اسٹیشن کے پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ دیگر معاملات میں ان کے کردار پر مخالفین تنقید کرتے رہے ہیں۔

وہ آج کل سندھ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کے عہدے پر تعینات تھے۔

ڈاکٹر عاصم کراچی میں ایک نجی ہپستال کے مالک ہیں، ان کی خدمات کے اعتراف میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں انہیں ستارۂ امتیاز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں نشان امتیاز سے نوازا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں مبینہ بدعنوانی کے 12 مقدمات دائر ہیں جن میں وہ ضمانت حاصل کرچکے ہیں

ان کے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے بھی ذاتی مراسم ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق حکومت میں دونوں جماعتوں میں اختلافات کے وقت پس پردہ وہ بھی ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دو روز بعد ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

اس اجلاس میں جنرل راحیل شریف نے ہدایت جاری کی ہے کہ دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور کرپشن کا شیطانی گٹھ جوڑ توڑا جائے۔

ڈاکٹر عاصم پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دوسری اہم شخصیت ہیں جنھیں حالیہ ماہ حراست میں لیا گیا ہے۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے آٹھ اگست کو لاہور میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق اولمپیئن قاسم ضیا کو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

دوسری جانب کراچی میں وفاقی انٹی کرپشن عدالت کے جج محمد عظیم نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم سمیت دس افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے جمعرات کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں جعلی کمپنیوں کو سبسڈی دینے کے الزام میں حتمی چالان پیش کیا، جس میں یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی کے سیکریٹری زبیر احمد ، فیصل صدیق خان، ہارون رئیسانی اور میاں طارق سمیت دس افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان ملزمان کی بدعنوانی کی وجہ سے قومی خزانے کو ایک ارب رپے کا نقصان پہنچا ہے۔

عدالت نے حتمی چالان قبول کر لیا اور تمام ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر کے انہیں 17 ستمبر تک پیش کرنے کا حکم جاری دیا۔

یاد رہے کہ حالیہ مقدمات سے پہلے بھی یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں مبینہ بدعنوانی کے 12 مقدمات دائر ہیں جن میں وہ ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں