سکیورٹی خدشات پر پاکستانی سفارتی عملہ کمپاؤنڈ تک محدود

Image caption پاکستان سفارت خانے کے اہلکاروں کو ہراساں کرنے میں افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار ملوث ہیں: ذرائع

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے عملے نے اغوا اور جان کو لاحق خطرات کی وجہ سے سفارت خانے کے باہر مکانوں کے بجائے سفارت خانے کے کمپاؤنڈ میں رہائش اختیار کر لی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق وہ افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو درپیش خطرات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس ضمن میں اُن کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

اس سے پہلے کابل سفارت خانہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گھر سے روزانہ سفارت خانہ پہنچنے تک راستے میں گاڑیاں اُن کا تعاقب کرتی ہیں اور نامعلوم افراد ویڈیو اور تصاویر بناتے ہیں۔

مارٹر حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر افغانستان سے احتجاج

’پاکستان میں کرائے کے قاتل ہمیں جنگ کا پیغام دیتے ہیں‘

انھوں نے شبہ ظاہر کیا کہ پاکستان سفارت خانے کے اہلکاروں کو ہراساں کرنے میں افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ کابل میں تعینات پاکستانی عملے کے خاندان اُن کے ساتھ نہیں رہ سکتے جبکہ اسلام آباد افغان سفارت کاروں کے لیے فیملی سٹیشن ہے۔

اس سے قبل اتوار کو پاکستانی دفتر خارجہ میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی کو طلب کر کے افغانستان میں پاکستان کے سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

کابل سے سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پاکستانی سفارت خانے کی گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں سے مقامی افراد بخوبی آگاہ ہیں اور بعض افراد آتے جاتے پاکستانی عملے پر جملے کستے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کے سبب دونوں ملکوں کے مابین قیام امن کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں

انھوں نے کہا کہ ’اگر حالات ایسے ہی رہے تو کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔‘

اس سے پہلے پاکستانی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ اہلکار کو مبینہ طور پر افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے اہلکاروں نے سرحدی چوکی پر دو گھنٹے تک روکے رکھا تھا۔

سفارت خانے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اغوا اور ہراسانی سے محفوظ رہنے کے لیے پاکستانی سفارت کاروں اور عملے کے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بلا وجہ کمپاؤنڈ سے باہر جانے سے گریز کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کو نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور ان کی میٹنگ ملتوی کروائی اور وہ اگلے روز واپس سفارت خانے پہنچے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق وہ افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو درپیش خطرات سے پوری طرح آگاہ اور اس ضمن میں اُن کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان سفارت کاروں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت افغانستان میں پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کی طرف سے پاکستان پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا جاتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ mofa

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پرامن افغانستان پاکستان کے علاوہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فریقین کے درمیان جب بھی مذاکرات کا دوسرا دور ہوا تو پاکستانی حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے اور صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کے سبب دونوں ملکوں کے مابین قیام امن کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ سرحدی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔

گذشتہ اتوار کو پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ افغان سرحد کے پار سے پاکستانی چوکی پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا جس سے فوج کے تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

اسی بارے میں