’سرحد پر فائرنگ اور دہشت گردی کی کڑیاں ملتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption سی ایم ایچ کے دورے کے دوران انھوں نے زخمیوں سے عیادت کی

بھارت اور پاکستان کے درمیان ورکنگ باونڈری پر جمعہ کو ہونے والی فائرنگ پر پاکستان کی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے کہا ہے کہ سرحد پر جارحیت کا تعلق ملک کے اندر مبینہ طور پر بھارت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی سے ہے۔

فائرنگ کے واقعات میں چھ پاکستانی دیہاتیوں کی ہلاکت پر پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب ٹوئٹر پر راحیل شریف سے منسوب کئی پیغامات جاری کیے گئے جن میں سے ایک میں انھوں نے کہا کہ ’ہم لائن آف کٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل جارحیت کا پاکستان کے اندر بھارت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی سے تعلق کو محسوس کر سکتے ہیں۔‘

بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر حالیہ چند مہینوں میں فائرنگ اور مارٹر گولے فائر کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

جمعہ کو ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے میں دونوں طرف سے نو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption سی ایم ایچ میں انھوں نے زخمیوں کے بہترین علاج کی ہدایت کی

فوج کی طرف سے جاری ہونے والی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان فوج کے سربراہ نے جمعہ کو رینجرز ہیڈکواٹر کا دورہ کیا جہاں انھیں تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔

راحیل شریف نے سرحد پر تعینات رینجرز کے جوانون اور افسروں کے حوصلوں کو سراہا اور بھارتی فائرنگ کا مناسب جواب دینے پر ان کی تعریف کی۔

ایک اور ٹویٹ میں راحیل شریف نے کہا کہ بھارت نے ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے اور پاکستان کی شہری آبادی کو دہشت زدہ کرنے کے لیے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی حددوں کو پار کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption جنرل راحیل شریف نے سیالکوٹ سی ایم ایچ کا دورہ کیا

ان کی طرف سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’بھارت کی طرف سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جانا انتہائی غیر پیشہ وارانہ، غیر ذمہ دارانہ، بزدلانہ اورغیر اخلاقی فعل ہے۔‘

مزید ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا کہ راحیل شریف نے سیالکوٹ میں فوجی ہپستال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی بہترین نگہداشت اور علاج کے بارے میں ہدایات جاری کئیں۔

تازہ ترین فائرنگ میں جانی نقصان کے بارے میں ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ایک عورت اور ایک بچے سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 21 خواتین اور گیارہ بچوں سمیت 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں