نواز شریف اور لتا منگیشکر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نواز شریف مئی 2013 کے انتخابات کے بعد تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے

پاکستان میں جنرل تو اس لیے اطمینان سے دس دس سال حکومت کر لیتے ہیں کہ ان کی پشت پر ایک منظم مشینی قوت ہوتی ہے۔ لیکن سیاستدان کو ایسی کوئی سہولت میسر نہیں بھلے وہ عوام کی پیداوار ہو یا اسٹیبلشمنٹی چوزہ خانے کا برائلر چک۔سیاستدان کو لامحالہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنی پڑتی ہے۔

فوجی جنرل کے جمے جمائے منصب کے برعکس سیاستداں کا دارو مدار ہوائی روزی پر ہے۔ لاٹری کھل گئی تو ذوالفقار علی بھٹو، نہ کھلی تو اصغر خان۔

جنرل کو یہ سہولت بھی میسر ہے کہ اس کے پیشِ نظر ’ووٹ بینک‘ نہیں ہوتا۔چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کے مشورے اور ذاتی اعتماد کے بل بوتے پر بہت حد تک وہ سب کچھ کر سکتا ہے جو اس کے خیال میں’قومی مفاد ‘ کے لیے ضروری ہے۔لیکن رضیہ کی طرح سیاستداں کی شادی بھی کسی ایک سے نہیں پورے خاندان سے ہوتی ہے۔

عوام کو بھی راضی رکھنا ہے، بیورو کریسی نام کے سسر کی خوشنودی بھی مسلسل کمانی ہے۔ عسکری ساس کے ماتھے کی شکنیں بھی گنتے رہنا ہے، پارٹی کے بچوں کے لیے روٹی روزی اور دیکھ بھال کا جتن بھی کرنا ہے، حزبِ اختلاف کے حاسد شریکوں سے بھی نبھائے رکھنی ہے۔نک چڑھے ہمسائیوں ( بالخصوص بھارت اور افغانستان ) کی مخاصمتوں کو بھی قابلِ برداشت دائرے میں رکھنا ہے اور اپنا چال چلن بھی کچھ یوں دکھانا ہے کہ اگلی بار بھی اقتدار میں آنے کا احتمال رہے۔

داغ ضرور اچھے ہوتے ہوں گے مگر رضیہ اور سیاستداں کے لیے نہیں۔دونوں اس سماج میں نہ تو من بھاتا فیشن کر سکتے ہیں، نہ مرضی کا چال چلن اختیار کر سکتے ہیں اور نہ ہی شریکوں، حریفوں، تلنگوں، راہ چلتوں اور سرپرستوں کے طعنوں، فقرے بازیوں، دھمکیوں اور رکیک حملوں سے لاپرواہی برت سکتے ہیں۔

اس تناظر میں پاکستان میں کسی بھی سویلین حکمران کا دو، تین یا پورے پانچ سال بسلامت کرسی پے گزارنا اگنی پرکھشا دینے جیسا ہے۔اسے مینڈکوں کو ترازو میں تولنے کا ماہر ہونا پڑتا ہے ۔یوں سمجھ لیجیے کہ قسمت کے رولر کوسٹر پر گرم آلو ہتھیلی پر جمائے رہنے کے کرتب کا نام دیسی سیاست ہے۔

ناظم الدین سے نواز شریف تک سب سویلینز پر یہ فارمولا لاگو ہوا اور ہوتا رہے گا۔ایسی دنیا میں نہ پارلیمانی اکثریت کام آتی ہے، نہ بہترین پالیسیی ساز دماغی صلاحیت ، نہ ہی آئینی تحفظات و حقوق کا شخشخا اور نہ ہی سانپ اور سیڑھی کے اصول پر ہچکولے لیتی عوامی قبولیت۔

پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ سویلین حکمرانوں کی زیادہ تر مدتِ اقتدار پیراشوٹی حملوں سے نمٹنے، جھکائی دینے، ناگہانی اڑنگوں سے بچنے، خود کو کیمو فلاج کرتے رہنے، اپنی ہی صفوں پر نگاہِ تیز رکھنے میں ہی صرف ہوجاتی ہے اور خون کے گھونٹ پیتے ہوئے مسکرانے کی جدوجہد میں ہی کھیل اور بندہ پورا ہوجاتا ہے۔اسے کہتے ہیں ہوائی روزی کی برکات۔

سامنے کی مثال نواز شریف انتظامیہ کی ہے۔کوئی بتائے کہ دو مرتبہ کا اقتداری تجربہ انہیں تیسری بار کتنا فیض پہنچا رہا ہے ؟ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے اپنے ماضی سے بہت کچھ سبق لیا بھی ہے تو یہ سبق بھی سٹاک ایکسچینج کی شئیرز قیمتوں کی طرح جھٹکے لیتی سیاست میں کس کام کا؟

دو برس پہلے نواز شریف کو جو اقتداری رقبہ تیسری بار ملا اس کا کچھ حصہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو سب لیز کیا اور کچھ تحریکِ انصاف کو الاٹ ہوگیا۔ دو برس بعد حالات یہ ہیں کہ اقتداری رقبے کے صرف ملکیتی کاغذات ہی میاں صاحب کے ہاتھ میں رہ گئے ہیں اور وہ عملاً ’ ہر میجسٹی دی کوئین ‘ میں تبدیل ہوگئے یا کر دیے گئے ہیں۔اب ان کے پاس خاصا وقت ہے پسندیدہ پرانے ہندوستانی فلمی گیت سننے اور گنگنانے کے لیے۔

اٹھائے جا ان کے ستم اور جئیے جاااااااا

یونہی مسکرائے جا ، آنسو پئے جا

اٹھائے جا ان کے ستم ۔۔۔۔۔

( لتامنگیشکر، فلم انداز، انیس سو انچاس ۔میاں صاحب کا سالِ پیدائش )۔

اسی بارے میں