’بھارتی مداخلت کے ثبوت اقوام متحدہ میں پیش کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سوزن رائس کو تمام حقائق اور ثبوتوں سے آگاہ کیا جائےگا

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ملک کے اندر جاری بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔

خواجہ آصف نے یہ بات اتوار کو پاکستانی سرحد پر بھارتی گولہ باری سے سیالکوٹ کے متاثرہ گاؤں کندن پور کا دروہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

’را کی مداخلت کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اٹھانے پر غور‘

دو دن پہلے ہی ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے بعد بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے سیالکوٹ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ سرحد پر جارحیت کا تعلق ملک کے اندر مبینہ طور پر بھارت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی سے ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف ستمبر میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس اور اکتوبر میں دورہ امریکہ کے دوران پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے اندر بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں اور اُن کے کارندے بھی پکڑے گئے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ’بلوچستان میں جو علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے اُس کو مالی امداد اور اسلحہ بھی بھارت سے ملتا ہے جبکہ دہشت گرد سفر بھی بھارتی پاسپورٹ پر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سوزن رائس کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں موجودہ پاک بھارت سرحدی تناؤ کو ٹھنڈا کرنے کی بات کی جائے گی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سوزن رائس کو تمام حقائق اور ثبوتوں سے آگاہ کیا جائےگا کہ بھارت کیسے پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’بھارت اور دہشت گرد ایک چیز کے دو چہرے ہیں اور بھارت پاکستان کے اندر دہشت گرد کاروائیاں اور سرحد پر جس طرح نہتے شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے وہ اپنا اصل چہرہ ظاہر کر رہا ہے۔‘

وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ’ہمارے گلی، محلوں، سکولوں اور ہماری سرحدوں پر بچوں کو قتل کرنے والا ہمارا ایک ہی دشمن ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ROBIN SINGH
Image caption ورکنگ باؤنڈری پر گولہ باری اور فائرنگ میں حالیہ دنوں شدت آئی ہے

خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہم اقوام متحدہ اور دوست ممالک کے سامنے بھی یہ مسئلہ اُٹھائیں گے اور بتائیں گے کہ پچھلے کئی ماہ سے بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت جاری ہے اور ہماری جانب سے مذاکرات پر آمادگی اور ہمارے خلوص کو بھی مشروط کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بھارت اپنے ہمسایوں پر تسلط قائم کرنے کا جو ایجنڈہ رکھتا ہے پاکستان اِس کو مسترد کرتا ہے۔‘

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اِس وقت بھارت کے اندرونی حالات خراب ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم کی اپنی ریاست گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں اور بھارت اِس سے توجہ ہٹانے کے لیے سرحد پر لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے عندیہ دیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ملک میں مداخلت کے معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں