’نواز حکومت طالبان کو بچانے کے لیے قوم کو تقسیم کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف نے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا اور اُنھوں نے 1990 کی دہائی کی سیاست کا آغاز کر دیا ہے: آصف زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ طالبان کو جو اس کے’فطری ساتھی‘ ہیں، بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

حالیہ چند ہفتوں میں پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد پیر کو لندن سے جاری کیے گئے بیان میں سابق صدر نے کہا ہے کہ نواز شریف حقیقی دشمن کو چیلنج کرنے کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

’بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی‘

پیپلز سیکریٹیریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آصف علی زرداری نے کہا کہ نواز شریف نے 1990 کی دہائی کی انتقامی سیاست کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے فطری ساتھیوں یعنی طالبان اور دہشت گردوں کو بچانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے کے لیے قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ نے کہا کہ پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبۂ پنجاب کے سابق صدر قاسم ضیا، اس کے بعد سینیٹر رخسانہ بنگش کے بیٹے اور اب سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو مفلوج کر دیا گیا ہے اور سندھ میں وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے کارروائیاں آئین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ یہ سارے اقدامات سیاسی انتقام کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور اگر انتقامی سیاست کو روکا نہ گیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

سابق صدر نے وزیر اعظم نواز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف نے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا اور اُنھوں نے 1990 کی دہائی کی سیاست کا آغاز کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق صدر زرداری کا کہنا تھا کہ شریف برادران کا اقتدار میں آنا پاکستان پیپلز پارٹی کی مرہون منت ہے

اُنھوں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام لیے بغیر کہا کہ سب سے پہلے اُن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جن کا اعترافی بیان مجسٹریٹ کے پاس موجود ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب کے ایک وزیر رانا مشہود کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر میاں برادران کے لیے پیسے وصول کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو کے اہلکار صوبہ سندھ کے بیوروکریٹس کو ہراساں کر رہے ہیں۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ شریف برادران کا اقتدار میں آنا پاکستان پیپلز پارٹی کی مرہون منت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی ہی تھی جس نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر پابندی اُٹھائی تھی حالانکہ اُنھیں معلوم تھا کہ اس کا فائدہ صرف شریف برادران کو ہوگا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 کے انتخابات ریٹرننگ افسران کے انتخابات تھے اور حال ہی میں انتخابی ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکمراں جماعت کو انتخابات جیتنے کے لیے باہر سے بھی مدد ملی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے سابق صدر کے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کر رہی۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشیدنے کہا کہ آصف علی زرداری کے خدشات دور کیے جائیں گے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری سے متعلق وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کرد ی گئی ہے۔

اسی بارے میں