چاروں ممبران معیاد پوری کریں گے: الیکشن کمشنر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان نے 11 اکتوبر کو لاہور اور لودھراں میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پنجاب پولیس پر اُن سمیت دیگر جماعتوں کو تحفظات ہیں

چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ کمیشن کے چاروں ارکان کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اُنھیں معیاد پوری ہونے تک عہدوں سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

تاہم دوسری جانب حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وہ ان ارکان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالتے رہیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر واضح کیا کہ ان ارکان کے خلاف آئین میں کارروائی کرنے کا طریقہ کار موجود ہے اس کے علاوہ اُنھیں معیاد پوری ہونے تک اُن کے عہدوں سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کے رکن ریاض کیانی کو ہی ہٹا دیں۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے اس عمران خان کے اس مطالبے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن پنجاب کے رکن کی موجودگی میں ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر جماعتوں نے بھی مذکورہ رکن کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جج کو آئین کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے بلکہ اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے کمیشن کے چاروں ارکان کو 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد مستعفی ہو جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کے فیصلے سے دستبردار ہوگئے اور اعلان کیا کہ چار اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی عمارت کے سامنے احتجاجی جلسہ ہوگا

عمران خان الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کے فیصلے سے دستبردار ہو گئے ہیں اور انھوں نے اعلان کیا ہے کہ چار اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی عمارت کے سامنے احتجاجی جلسہ ہو گا۔

عمران خان نے 11 اکتوبر کو لاہور اور لودھراں میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پنجاب پولیس پر اُن سمیت دیگر جماعتوں کو تحفظات ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو پنجاب میں کام کرنے والے الیکشن ٹریبیونلوں کے ججوں کو اس وقت تک کام کرنے کی اجازت دی جائے جب تک الیکشن سے متعلق اپیلوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان ٹربیونلوں کی معیاد ختم کرنے کا فیصلہ اس سال جون میں ہی ہو چکا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ عدالتی کمیشن نے 2013 کے انتخابات میں جن کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے اس کو بہتر کرنے پر کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں ہونے والے انتخابات میں یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

اسی بارے میں