گیتا کی واپسی: ’عدالت کو سفارتی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کراچی کی ایک مقامی عدالت نے بھارتی لڑکی گیتا کی وطن واپسی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت کو سفارتی معاملات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا کی عدالت نے جمعرات کو بھارتی شہری مومن ملک کی درخواست نمٹا دی۔

بھارتی وکیل مومن ملک نے گیتا کی وطن حوالگی کی اجازت چاہی تھی۔

عدالت نے جمعرات کو لینگوئج ایکسپرٹ کے ذریعے گیتا کا بیان قلمبند کیا، جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ کس طرح پاکستان آئیں اور پھر پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔

بھارت میں اپنے گھر کے پتے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کا نمبر 153 ہے اور گھر کے قریب چاول کے کھیت اور ایک نہر ہے۔

مومن ملک نے ایدھی فاؤنڈیشن میں مقیم گیتا سے ملاقات کی کوشش کی تاہم اجازت نہ ملنے پر انھوں نے مقامی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مومن ملک عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق ہے اور اب ان کی ذمہ داری کم ہوگئی ہے وہ بھارت جاکر حکومت پر دباؤ ڈالیں گے کہ گیتا کی واپسی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔

’ہریانہ ہائی کورٹ میں میری درخواست کی 10 ستمبر کو سماعت ہونی ہے جس میں بھارت کی وزارتِ خارجہ کو کہا جائے گا کہ گیتا کو سفارتی چینل کے ذریعے واپس لانے کا انتظام کیا جائے کیونکہ پاکستان کی عدالت پہلے یہ فیصلہ دے چکی ہے۔‘

مومن ملک کا کہنا تھا کہ اس درخواست کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ عدالت نے گیتا کو بھارتی شہری ڈکلیئر کردیا ہے۔

انھوں نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ انھوں نے 15 سالوں میں اس حوالے سے کوئی کردار کیوں ادا نہیں کیا۔

’بھارتی سرکار نے ایک افسر کو یہاں تعینات کیا ہے اس کی ذمہ داری کیا ہے، ایک لڑکی دس سال کی عمر میں پاکستان آئی اس نے یہاں 15 سال گزار دیے اس کی زندگی جو خراب ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘

بھارتی وکیل نے درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا تھا کہ گیتا کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ بھارت میں جو خاندان اس کے والدین ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں ان سے گیتا کا ڈی این اے میچ کرایا جائے۔

واضح رہے کہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم گیتا گذشتہ 13 سال سے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن میں مقیم ہیں۔

وہ لاہور پولیس کو سمجھوتہ ایکسپریس سے لاوارث ملی تھیں جس کے بعد انھیں ایدھی سینٹر کراچی منتقل کردیا گیا۔

اسی بارے میں