بارہ کہو سرچ آپریشن میں 100 سے زائد افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسی علاقے میں دو سال قبل حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما نصیر الدین حقانی کی موجودگی کا انکشاف ان کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے بارہ کہو میں رینجرز، خفیہ اداروں اور مقامی پولیس نے مشترکہ آپریشن کر کے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔

بارہ کہو میں حقانی نیٹ ورک کے رہنما کی ہلاکت

اس آپریشن میں ان افراد کے قبضے سے بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ اور آتش گیر مادہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ قبضے میں لیے جانے والے اسلحے میں غیر ملکی اسلحہ بھی شامل ہے۔

گرفتار ہونے والے افراد میں 30 سے زائد افغانی اور شدت پسندی کے مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب افراد بھی شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ بھجوائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد کے نواحی علاقوں بارہ کہو اور ترنول میں آباد ہوگئے ہیں، جن کے بارے میں مقامی پولیس اور انتظامیہ کو کوئی معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی مقامی پولیس ان افراد کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں جانتی ہے۔

اہلکار کے مطابق ان رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان لوگوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ شدت پسندوں کے سہولت کار بھی ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق بارہ کہو، ترنول اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کے لیے جو حکمت عملی اپنائی گئی تھی اس کے مطابق رینجرز کے اہلکار سب سے آگے تھے جبکہ مقامی پولیس کو سیکنڈ ڈیفنس میں رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خفیہ ادارے حکومت کو جو رپورٹ بھجوا چکے تھے ان میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ اس علاقے میں شدت پسند اور ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ملکی اور غیر ملکی افراد بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں اور مقامی پولیس کے پاس ان افراد کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس سرچ آپریشن کے بارے میں اسلام آباد پولیس کے چند اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا گیا تھا جبکہ پولیس کو یہ بتایا گیا تھا کہ انھیں سپیشل ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بقول افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جب پاکستان کا دورہ کیا تھا تو اُن کے دورے کے دوران بارہ کہو کے علاقے سے افغانستان اور قبائلی علاقوں میں دو لاکھ سے زائد موبائل کالیں کی گئی تھیں۔

حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما کے بیٹے کو بھی اسی علاقے میں قتل کیا گیا تھا جس کا سراغ پولیس آج تک نہیں لگا سکی۔

سب ڈویژنل پولیس افسر عارف شاہ کے مطابق یہ ٹارگٹڈ سرچ آپریشن تھا اور خفیہ اداروں کی معلومات کی روشنی میں کیا گیا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق آپریشن میں 120 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 30 افغانی ہیں جبکہ حراست میں لیے جانے والے دیگر افراد پاکستانی ہیں اور ان میں ایک قابل ذکر تعداد کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔

ان افراد کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں