ہنگو میں بم دھماکے میں اے این پی کے کونسلر سمیت دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہنگو میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے تین ضلعی کونسلرز منتخب ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ہنگو میں سڑک کنارے بم دھماکے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی کونسلرسمیت دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کونسلر کے چچا زاد بھائی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

یہ واقع ہفتے کی صبح دوآبہ کے قریب تورہ وڑئی کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی کونسلر ملک ممتاز اپنے چچا زاد بھائی اور ساتھیوں کے ہمراہ دوآبہ کی جانب آ رہے تھے کہ راستے میں سڑک کے کنارے نصب بم کا دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں ملک ممتاز اور ان کے چچا زاد بھائی جاوید ہلاک ہو گئے جبکہ دو ساتھی زخمی ہوئے۔

زخمیوں کو مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ زخمیوں کے نام زاہد اور انعام الدین بتائے گئے ہیں۔

ہنگو میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے تین ضلعی کونسلرز منتخب ہوئے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے ایک بیان میں اس حملے کی سخت الفاظ مذمت کی ہے۔ پشاور میں عوامی نینشل پارٹی کے ضلعی کونسلر اور رہنما اتوار کو پریس کلب کے سامنے اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کریں گے۔

اس سے پہلے بھی عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین اہم رہنماؤں، وزرا اور اراکین اسمبلی کے علاوہ متعدد کارکنوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ان دنوں بھی جماعت کے بیشتراہم قائدین صوبے یا ملک سے باہر ہیں جن میں سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار شامل ہیں۔

سابق دور حکومت میں جب عوامی نیشنل پارٹی کی حکمرانی تھی اس دور میں جماعت کے اہم رہنما جیسے بشیر بلور، عالمزیب، میاں افتخار کے صاحبزادے اور دیگر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور صابق صوبائی وزیر عاقل شاہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت پر حملے ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہیں کیونکہ اے این پی امن چاہتی ہے اور جو لوگ امن نہیں چاہتے وہ اس طرح کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے تقریباً 700 کارکن اور رہنما دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بن چکے ہیں اور اب بھی ان کے قائدین کو خطرات لاحق ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عوامی نینشل پارٹی اپنے موقف سے ہٹ جائے گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

اسی بارے میں