کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے: جنرل راحیل شریف

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے اور مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈال کر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سنہ 1965 میں لڑی گئی جنگ کی 50 سالہ تقریب کے موقعے پر اتوار کو اپنے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کشمیری عوام گذشتہ سات دہائیوں سے ظلم و بربریت برداشت کر رہے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔

راولپنڈی میں برّی فوج کے ہیڈکوارٹر میں ’یوم دفاع‘ کی تقریب سے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ سنہ 1965 کے بعد سے ملک میں بہت اتار چڑھاؤ آئے ہیں لیکن ملک اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور قوم پرعزم ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج بیرونی جارحیت کا منہ توڑ مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ’دشمن نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے ناقابل برداشت نقصان اُٹھانا پڑے گا۔‘

جنرل راحیل نے کہا کہ ’جنگ چاہے روایتی ہو یا غیر روایتی ہم اُس کے لیے تیار ہیں۔‘

جنرل راحیل نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی اور غیر روایتی جنگ کا سامنا ہے اور انتشاری قوتوں نے ریاست کو چیلنج کیا تو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے معصوم بچوں کی ہلاکتیں ظلم کی انتہا تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان نے بے پناہ قربانیوں کے بعد ریاست کی رٹ کو بحال کیا ہے اور کراچی اور بلوچستان میں امن قائم کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔

’ریاست کے تمام اداروں کو خلوصِ نیت کے ساتھ اپنا کام کرنا ہے تاکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے کئی شہروں میں عسکری نمائش منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی

جنرل راحیل نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے مددگار، سہولت کار اور مالی مدد دینے والے، سب کو کیفرار کردار تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا۔‘

فوج کے سربراہ نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ ’پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں لیکن امن دشمن طاقتیں افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

پاکستان کی فوج کے سربراہ نے یوم دفاع کے موقع پر تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے سے خطے میں ترقی لائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’راہداری منصوبے کو مکمل کرنا اہم قومی فریضہ ہے اور افواجِ پاکستان اس میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔‘

خیال رہے کہ اتوار کو پاکستان اور بھارت کے درمیان سنہ 1965 میں لڑی گئی جنگ کے 50 سال مکمل ہونے پر پاکستان میں گولڈن جوبلی تقریبات منائی گئی ہیں۔

پاکستان میں یوم دفاع کی 50 سالہ تقریبات کے موقع پر اسلام آباد میں فضائیہ کے لڑاکا جیٹ طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔

اس تقریب کے موقعے پر پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور وہ ہر ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی کسی نے پاکستان کی آزادی اور پرامن طرز زندگی کو پامال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے اُس کا منہ توڑ جواب دیا اور اس عزم کا اظہار دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب میں بھی ظاہر ہے۔‘

یوم دفاع کے موقعے پر ملک بھر میں تقریبات کا سلسلہ جاری رہا۔ لاہور کراچی اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں عسکری نمائشیں منعقد کی گئیں جن میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

اسی بارے میں