بی ایل ایف کے رہنما کی ’غیر مصدقہ‘ موت کا دعویٰ

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ
Image caption ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی موت کا پہلے بھی دعویٰ کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے علحیدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے مارے جانے کے دعوے کو ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے۔

اس بات کو انھوں نے منگل کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دہرایا۔

چند ہفتے قبل کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے اس کی تردید کی تھی۔

کوئٹہ میں سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے آخر میں انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آپ لوگوں کے ساتھ یہ بات شیئر کرنا چاہتے ہیں کہ ’کالعدم بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہمارے ایک آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں۔‘

ایک سوال پر انھوں نے کہا وہ غیر مصدقہ اطلاع اس لیے کہہ رہے ہیں کہ جب سے فرنٹیئر کور نے آواران میں چند ایک آپریشن کیے ہیں اس کے بعد ان کے زندہ رہنے کے ثبوت ہمیں نہیں مل رہے جس کے باعث وہ اسے غیر مصدقہ اطلاع کہہ رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب مارے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کنفرم تاریخ اس لیے نہیں بتاسکتے کہ پچھلے دنوں میں چند آپریشن ہوئے ان میں سے ایک میں وہ مارے گئے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے متعدد سوالوں کے جواب میں یہ کہا کہ آفیشل بیان یہ ہے کہ ’غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر اللہ نذر مارے گئے۔‘

اس سے قبل اگست کے دوسرے ہفتے میں جب پاکستانی میڈیا میں سرکاری حکام کی جانب سے غیر مصدقہ اطلاعات کے حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے مارے جانے کی خبر آئی تو کالعدم بی ایل ایف نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔

گیارہ اگست کو کالعدم بی ایل ایف کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو جو بیان جاری کیا گیا تھا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ ’ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ حفاظت سے ہیں۔‘

پریس کانفرنس کی ابتدا میں میر سرفراز بگٹی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حساس اداروں نے ایران اور افغانستان سے متصل ضلع چاغی میں کالعدم تنظیموں اور سمگلرز کے زیر استعمال ایک بہت بڑے کمیونیکیشن سینٹر کو ناکارہ بنایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ کارروائی ضلع کے علاقے دالبندین میں کی گئی جس دوران سات مطلوب دہشت گردوں کو اسلحہ سمیت گرفتار بھی کیاگیا۔

یہ کمیونیکیشن سینٹر دالبندین میں واقع دو بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں پر بنایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران چھ سو سمز بھی بر آمد کیے گئے۔

ان سمز میں افغانی، انڈین، ایرانی، یوکے، یو ایس اے، خلیجی اور یوریپین ممالک کے نمبرز موجود ہیں۔

اسی بارے میں