قصور مبینہ جنسی زیادتی: ’تحقیقاتی رپورٹ اسبملی میں پیش کریں گے‘

Image caption قصور واقعے میں ملوث 13 ملزمان کو پولیس نے انسدا دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزامات کی تحقیقاتی رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیشں کی جائے گی۔

منگل کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ قصور واقعے کی تحقیقات مشترکہ تفتیشی ٹیم کر رہی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل ہو جائیں گی جس کے بعد رپورٹ کو اسمبلی میں پیشں کیا جائےگا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ قصور واقعے کے اب تک 23 متاثرین سامنے آئے ہیں اور 29 مقدمات درج کیےگئے ہیں۔

دوسری جانب لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور میں بچوں سے زیادتی کے الزام میں ملوث ملزمان کا سات دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

قصور واقعے میں ملوث 13 ملزمان کو پولیس نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا اور ملزمان سے تفتیش کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ طلب کیا۔

پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایاگیا کہ ملزمان سے واقعے سے متعلق مواد کی برآمدگی کروانی ہے اِس لیے مزید ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کا مزید سات دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور ہدایت کی کہ ریمانڈ ختم ہونے پر تمام ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ عدالت اس سے قبل بھی ملزمان کا 28 دن کا جسمانی ریمانڈ دے چکی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس واقعے کے ایک ملزم تنزیل الرحمان کی 31 اگست تک عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی برس سے جاری ان واقعات میں 280 سے زیادہ بچوں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی 30 ویڈیوز ان کے پاس آئی ہیں۔

اسی بارے میں