خیبر ایجنسی سے امن لشکر کے چھ رضاکاروں کی لاشیں برآمد

Image caption ایسی اطلاعات ہیں کہ امن لشکر کے 11 رضا کاروں کو چار روز دور افتادہ علاقے تیراہ سے اغوا کیا گیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں منگل کو دوسرے روز بھی امن لشکر کے چھ رضا کاروں کی لاشیں ملی ہیں۔

دو روز میں خیبر ایجنسی سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے ۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ لاشوں کے ملنے کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ چھ افراد کی لاشیں تحصیل باڑہ کے علاقے قبر خیل سے ملی ہیں جنھیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔

ان افراد کو تعلق تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے بازار زخہ خیل سے بتایا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ امن لشکر کے 11 رضا کاروں کو چار روز پہلے خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے تیراہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق ان میں سے پانچ افراد کی لاشیں گذشتہ روز پیر کو ملی تھیں جبکہ چھ افراد کی لاشیں قمبر خیل کے علاقے سے منگل کو ملی ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام 11 افراد کو گذشتہ روز ہی قتل کر کے لاشیں مختلف علاقوں میں پھینک دی گئی تھیں۔

Image caption شمالی وزیرستان میں آپریشن کے کچھ عرصے بعد خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا

اطلاعات کے مطابق ان افراد کو کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ گذشتہ روز پیر کو جب پانچ افراد کی لاشیں ملنے کی خبر سامنے آئی تھی تو اس وقت تنظیم کے ترجمان نے نے خیر ایجنسی میں صحافیوں کو فون کرکے اس واقعے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی تھی۔

خیبر ایجنسی میں مختلف تنظیمیں متحرک ہیں۔ امن لشکر کے ان افراد کا تعق توحید الاسلام سے بتایا گیا ہے اور یہ تنظیم حکومت کی حمایتی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ لاشیں ملنے کے بارے میں متعلقہ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ اس بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں لیکن جس علاقے کا ذکر کیا گیا ہے وہ انتہائی دور ہے اور وہاں سرکاری اہلکاروں سے رابطہ نہیں ہو رہا۔

یاد رہے گذشتہ ماہ صدر ممنون حسین نے خیبر ایجنسی کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے قبائلی رہنماؤں سے خطاب میں کہا تھا کہ فوجی آپریشن ضرب عضب اپنی آخری مراحل میں ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ پشاور کو طور خم سے ملانے والے اہم شاہراہ پر تو حالات پہلے سے قدرے بہتر ہیں لیکن شاہراہ سے ہٹ کے دور دراز کے علاقوں میں حالات اس طرح بہتر نہیں ہیں۔

اسی بارے میں