بلوچ کارکنوں کے نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماماقدیر کے وکیل وزیر کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ماما قدیر ایک پرامن شہری ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کہا کہ آزاد پاکستانی کی حیثیت سے وہ دنیا میں کہیں بھی جا سکتے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس فاروق علی شاہ پر مشتمل ڈویژن بینچ میں منگل کو ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

ماما قدیر کے وکیل وزیر کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ماما قدیر ایک پر امن شہری ہیں اور وہ پاکستان کی حدود کا احترام کرتے رہے ہیں، انھیں رواں سال چار مارچ کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیا گیا لیکن وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ماما قدیر اور فرزانہ مجید جبری گمشدگیوں کے خلاف اور لاپتہ لوگوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ریاست مخالف ہیں۔

وفاقی وزرات داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی کی جانب سے جواب دائر کیا گیا تھا کہ ماما قدیر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اس لیے انھیں بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایڈووکیٹ وزیر کھوسو کا کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان کی حدود کے اندر حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان افواج کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں

ڈپٹی اٹارنی نے الزام عائد کیا کہ ماما قدیر نوجوانوں کو مسلح افواج اور وفاقِ پاکستان کے خلاف بھڑکاتے رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ وزیر کھوسو کا کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان کی حدود کے اندر حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان افواج کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی سے سوال کیا کہ کیا ماما قدیر کے خلاف کوئی مقدمہ ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس پر خاموشی اختیار کی، جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ وہ پرامن اور آزاد شہری ہیں ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ بلوچستان سے لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے انھیں امریکہ جانے کی اجازت نہیں دی اور انھیں حکام نے مطلع کیا تھا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔

عبدالقدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ انھیں نیویارک میں سندھی کمیونٹی نے اپنی ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی، جس کے لیے انھیں، فرازنہ مجید اور فائقہ کو امریکی حکومت نے پانچ سال کا ویزا دیا تھا۔

اسی بارے میں