جوہری ہتھیار بنانے کا عمل جاری رکھنے کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ خطے میں روایتی ہتھیاروں کے عدم توازن کے باعث زیادہ موثر چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

اس عزم کا اظہار وزیراعظم نواز شریف کی زیر سربراہی ملک کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے نیوکلئیر کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں مسلح افواج کے سربراہان، ایٹمی پروگرام سے متعلق سول اور فوجی حکام اور بعض وفاقی وزرا نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں روایتی حریف بھارت کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ اجلاس میں جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے روایتی فوجی عدم توازن کا نوٹس لیا گیا جس کے بعد اس قومی عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اس عدم توازن کے جواب میں اپنی اس ایٹمی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا جس میں زیادہ مؤٰثر چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری شامل ہے۔

پاکستان نے اس نئی پالیسی کو ’فل سپیکٹرم ڈیٹرنس کیپیبلیٹی‘ کا نام دیا ہے۔

یہ پالیسی بھارت کے لیے پاکستان کی تیار کردہ برسوں پرانی ایٹمی پالیسی کا حصہ ہے جسے ’کریڈیبل مینیمم ڈیٹرنس‘ یا قابل اعتبار مگر کم سے کم دفاعی صلاحیت کہا جاتا ہے۔

پاکستان نے یہ ایٹمی پالیسی چند برس قبل اختیار کی تھی جب بھارت نے امریکہ اور روس سمیت بعض دیگر ممالک کے ساتھ اربوں ڈالر کا اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان خریدنے کے معاہدے کیے تھے۔

اسی بارے میں