لاپتہ پانچ پاکستانی کوہ پیماؤں کی تلاش رک گئی

Image caption ان کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام پاکستان آرمی کے دو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کیا جا رہا تھا لیکن بدھ کو اندھیرا ہونے کے بعد تلاشی کا کام کل تک (جمعرات) کے لیے موخر کر دیا گیا ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر میں پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کی مہم کے دوران دس دن قبل لاپتہ ہو جانے والے پانچ پاکستانی کوہ پیماؤں کی بدھ کو شروع ہونے والی تلاش چند گھنٹوں بعد ہی روک دی گئی ہے۔

پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کا کہنا ہے کہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام اندھیرے کی وجہ سے کل تک کے لیے روک دیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں سراں والی نامی چوٹی کو سر کرنے کے لیے کوہ پیما عمران جنیدی، عثمان طارق اور خرم راجپوت اپنے دو گائڈز کے ہمراہ آئی بیکس کلب کے تحت روانہ ہوئے اور کیمپ ون تک بحفاظت پہنچ گئے لیکن اس سے آگے جانے کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے اور تاحال لا پتہ ہیں۔

ان کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام پاکستان آرمی کے دو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کیا جا رہا تھا لیکن بدھ کو اندھیرا ہونے کے بعد تلاشی کا کام کل تک (جمعرات) کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔

کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے ترجمان کرار حیدری نے ریسکیو آپریشن کے بارے میں بی بی سی کو بتایا ’یہ کوہ پیمائی کا ایک مقامی کلب ہے آئی بیکس اُس کے تحت چوٹی عبور کرنے گئے تھے اور 31 اگست کے بعد سے اُن کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ جب مقامی کلب نے ہم سے رابطے کیا تو ہم نے فوری طور پر ریسکیو ٹیم روانہ کی اور پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اُن کی تلاش کا کام جاری ہے۔‘

ایسی صورتِِِِ حال میں جب کوہ پیماؤں کو لاپتہ ہوئے دس روز گزر گئے ہوں، کوئی اطلاع نہ ہو اور اُن کے پاس صرف سات دن کا راشن ہو تو اُن کے زندہ بچائے جانے کے کتنے امکانات ہیں؟ اس بارے میں کرار حیدری کا کہنا تھا ’یہ اتنی بڑی چوٹی نہیں اور اِس کی اونچائی بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہ صرف چھ ہزار 326 میٹر اونچی ہے لیکن انتہائی بلندی پر موسم خاصہ ناہموار ہوتا ہے۔ تیز ہوا اور سخت سردی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی ہیں جو انسان کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔ البتہ یہاں اِس علاقے میں برفانی طوفان کم ہی آتے ہیں ۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ زندہ ہوں گے لیکن اِس کے امکانات خاصے کم ہیں۔‘

کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے مطابق اِس قسم کے واقعات میں خاصی حد تک کمی کی جاسکتی ہے اگر کوہ پیماؤں اور جن اداروں کے زریعے وہ کوہ پیمائی کے لئے جاتے ہیں یاپھر گائڈ کے ساتھ رابطے کو بہتر بنایا جائے۔

پاکستانی کوہ پیما، گائڈز اور اِس شوق سے وابستہ دیگر افراد اِس مہم جوئی کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل مہیا کرنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں تاکہ یہ باقائدہ صنعت کا درجہ اختیار کر لے اور نیپال، جرمنی اور آسٹریلیا کی طرح یہاں بھی باقاعدہ کوہ پیمائی کے زریعے ذرمبادلہ کمایا جا سکے۔

اسی بارے میں