مساجد اور عبادت گاہوں کے باہر کیمرے لگانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نینشل ایکشن پلان کے 15 نکات پر ہونے والے کام کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں جبکہ افغان مہاجرین کے معاملے پر کام اتنی تیزی سے نہیں ہو رہا جس کی اُمید کی جارہی تھی

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اُن مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے باہر کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں پر مبینہ طور پر دوسرے مسالک کے خلاف نفرت انگیز تقاریر ہو رہی ہیں۔

جمعرات کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں چوہدری نثار نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان، پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں میں واقع عبادت گاہوں کے باہر کیمرے لگائے جائیں گے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک بھر میں قائم دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا گیا ہے جس میں علماء کے نمائندے بھی شریک ہوں گے جس میں مدارس کی رجسٹریشن کے لیے فارم کو مزید آسان بنانا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت نفرت انگیز مواد شائع کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف قابل اعتراض تقاریر کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کالعدم شدت پسند تنظیموں کے خلاف گذشتہ نو ماہ کے دوران 11 ہزار آپریشن خفیہ معلومات کی روشنی میں کیے گئے۔

چوہدری نثار نے دعوی کیا کہ کالعدم تنظیموں کے بہت سے لیڈر ہتھیار پھینکنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ نینشل ایکشن پلان کے 15 نکات پر ہونے والے کام کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں جبکہ افغان مہاجرین کے معاملے پر کام اتنی تیزی سے نہیں ہو رہا جس کی اُمید کی جارہی تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 15 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہوئے اور یہ لوگ کیمپوں سے نکل کر آبادیوں میں آگئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کو واپس بھیجنے سے متعلق افعان حکومت سے مذاکرات ضروری ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم پر قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل پر متعقلہ قائمہ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور جلد ہی اسے منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں