جسٹس جمالی ملک کے نئے چیف جسٹس

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption جسٹس جمالی ملک کے چوبیسویں چیف جسٹس ہیں

جسٹس انور ظہیر جمالی نے جمعرات کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک سادہ مگر پر وقار تقریب میں پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اُٹھا لیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی پاکستان کے چوبیسویں چیف جسٹس ہیں جو جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریٹائر ہونے پر چیف جسٹس بنے ہیں۔

صدر ممنون حسین نے اُن سے نئی ذمہ داریوں کا حلف لیا۔ صدر مملکت نے نئے چیف جسٹس سے حلف اردو میں لیا۔ انور ظہیر جمالی پاکستان کے دوسرے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اردو زبان میں حلف لیا۔ اس سے پہلے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بھی اردو میں حلف لیا۔

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے چند روز قبل اردو کو سرکاری زبان قرار دینے سے متعلق دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اردو زبان کو سرکاری زبان قرار دیا تھا جس پر فی الفور عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے تاہم اس ضمن میں ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی جس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور عدالت عظٰمی کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلٰی حکام بھی شریک ہوئے۔

پاکستان کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر اُن ججز میں شامل ہیں جنہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کردیا تھا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کو اگست سنہ 2008 میں سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا گیا جبکہ اگست سنہ 2009 میں اُنھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کردیا گیا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی سنہ 2016 کے آخر تک چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہیں گے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی مقدمات کی نئی کاز لسٹ میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی بھی سماعت ہوگی اور سپریم کورٹ کے سنئیر ترین جج میاں ثاقب نثار اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔

وزیر اعظم پر الزام ہے کہ اُنھوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہوابازی کے بارے میں اپنے مشیر شجاعت عظیم کو اُن کے عہدے سے نہیں ہٹایا تھا۔

اسی بارے میں