ایم کیو ایم کا رینجرز پر چار کارکنوں کی ہلاکت کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا کہ چاروں افراد کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور ان کا ماروائے عدالت قتل کیا گیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں نادرن بائی پاس کے قریب رینجرز سے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے چار مشتبہ ملزمان کو اپنا کارکن قرار دیا ہے۔

سیاسی جماعت کا کہنا ہے کہ یہ اراکین کئی ماہ سے لاپتہ تھے انھیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

رینجرز نے جمعرات کی شب چار مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ترجمان نے اعلامیے میں کہا تھا کہ وکیل حسنین بخاری کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کی موجودگی کے اطلاع پر چھاپہ مارا گیا تو ملزمان نے فائرنگ کی جس کے بعد مقابلے میں چار دہشت گرد ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

متحدہ قومی موومنٹ نے جمعے کی صبح دعویٰ کیا کہ ان چاروں افراد کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا اور ان کا ماروائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے میں چار میں سے تین کی شناخت محمد عدیل، ذوہیب اللہ اور کاشف خلیل کے نام سے کی ہے تاہم مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے چوتھے شخص کی شناخت نہیں ظاہر کی گئی۔

ایم کیو ایم کے مطابق ان کا تعلق کراچی کے علاقے کورنگی سے تھا اور انھیں مختلف اوقات میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں بھی دائر ہیں۔

اسی سلسلے میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاورق ستار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر وہی موقف دہرایا کہ ان کے کارکن سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں ماوارائے عدالت قتل ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ حسنین بخاری کے قاتلوں کی سرپرستی اور ان کے مارے جانے پر ایم کیو ایم کا واویلا ناقابل فہم ہے

’ہمارے پاس موجود شواہد کے مطابق یہ رینجرز کی تحویل میں تھے، انھیں غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا اور ان کا کوئی جسمانی ریمانڈ نہیں لیا گیا۔ یہ چاروں کارکن بھی 150 سے زائد جبری لاپتہ کارکنوں کی فہرست میں شامل تھے جو وزیر اعظم نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ کو دی گئی تھی۔‘

ایم کیو ایم نے کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف کل ہڑتال کی اپیل بھی کی ہے جبکہ اتوار کو لیاقت آباد سے مزار قائد تک احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔

دوسری جانب رینجرز نے ایم ایم کیو ایم کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ پارٹی کی ایما پر ایم کیو ایم کے ’سیف ہاؤسز‘ میں روپوش تھے اور ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے ممبر اور وکیل حسنین بخاری کے قتل میں ملوث تھے۔

رینجرز ترجمان کے مطابق چاروں ملزمان پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ایما پر روپوش تھے۔

رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ حسنین بخاری کے قاتلوں کی سرپرستی اور ان کے مارے جانے پر ایم کیو ایم کا واویلا ناقابل فہم ہے۔

اسی بارے میں